کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 624
سے مروی ہے: {إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَّرْقُدَ وََضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہٖ،ثُمَّ یَقُوْلُ:اَللّٰھُمَّ قِنِيْ عَذَابَکَ یَوْمُ تَبْعَثُ عِبَادَکَ}[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور پھر یہ دعا پڑھتے:اے اﷲ! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لینا،جس دن تو اپنے بندوں کو(اُخروی زندگی کے لیے)اٹھائے گا۔‘‘ دعا کرنا: ان دونوں حدیثوں میں دو آداب کے علاوہ دو دعائیں بھی آگئی ہیں،جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت کیا کرتے تھے،جبکہ اس وقت کے لیے کتنی ہی دیگر دعائیں بھی ہیں،جن میں سے بعض یہ ہیں: 1۔ صحیح بخاری،سنن ابو داود و ترمذی،عمل الیوم واللیلۃ نسائی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے: {بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ أَمُوْتُ وَأَحْیَا} ’’اے اﷲ! میں تیرے نام ہی سے مرتا اور جیتا(سوتا اور بیدار ہوتا)ہوں۔‘‘ اور اسی حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ}[2] ’’ہر قسم کی تعریف اﷲ کے لیے ہے،جس نے ہمیں موت(نیند)کے بعد زندہ(بیدار)کیا اور(بالآخر)اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یہی الفاظِ دعا(حصہ اول)صحیح مسلم،مسند احمد،عمل الیوم واللیلۃ نسائی میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ
[1] صحیح سنن أبي داود (4218) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2705) عمل الیوم واللیلۃ للنسائي (ص: 449،453) صحیح الأذکار (ص: 70) الأدب المفرد (ص: 536) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3877) الکلم الطیب (ص: 39) عمل الیوم لابن السني (ص: 266،حدیث: 737) مسند أحمد (5/ 382-6/ 288) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (6324) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (4222) صحیح الترمذي،رقم الحدیث (2718) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3880) عمل الیوم واللیلۃ (ص: 447،448) الکلم الطیب (ص: 36) صحیح الأذکار (ص: 69)