کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 61
السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ﴾[ھود:114[ ’’اور دن کے دونوں کناروں(صبح و شام)اور کچھ رات گزرنے پر نماز قائم کرو،یقین کرو کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں،یہ یاد دہانی ہے اﷲ کو یاد رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ (اس آدمی نے سمجھا کہ نمازوں سے گناہوں کے کفارے کی یہ رعایت شاید صرف میرے لیے ہے،چنانچہ اس نے پوچھا: ’’أَ لِيْ ھٰذَا؟‘‘(کیا یہ صرف میرے لیے ہی ہے؟) تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(صرف تمھارے لیے ہی نہیں بلکہ) {لِمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ أُمَّتِيْ}[1] ’’میری امت کے ہر اس شخص کے لیے ہے،جو اس پر عمل کرے گا۔‘‘ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں،البتہ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ کے سوا کوئی چارہ نہیں،جیسا کہ جمہور اہلِ علم کا کہنا ہے۔[2] حدیث نمبر17: فرضی نمازیں ادا کرنے والوں کو غافلوں میں شمار نہیں کیا جاتا،اگرچہ وہ راتوں کے نفلی قیام اور نفلی روزے وغیرہ بھی نہ رکھتے ہوں،کیوںکہ مستدرکِ حاکم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {مَنْ حَافَظَ عَلٰی ھٰؤُلَآئِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ،وَمَنْ قَرَأَ فِيْ لَیْلَۃٍ مِائَۃَ آیَۃٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِیْنَ}[3] ’’جو شخص فرض نمازوں کی پابندی کرے تو وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا اور جو شخص رات کو(قرآنِ کریم)کی سو آیات پڑھ لے،اس کا شمار قانتین میں ہوجاتا ہے۔‘‘ حدیث نمبر18: صحیح ابن خزیمہ و ابن حبان اور مسند بزار میں حضرت عمر بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک [1] صحیح البخاري مع الفتح (2/ 8،8/ 355۔357) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (2143( [2] فتح الباري )8/ 57( [3] الصلاۃ للکلیب (ص: 202-من المجموعۃ) قال الحاکم: علی شرط الشیخین وصححہ الذھبي والألباني۔