کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 590
{مَنْ أَکَلِ ھٰذِہِ الْبَقْلَۃِ،الثَّوْمِ وَالْبَصَلِ وَالْکُرَاثِ فَلَا یَقْرُبَنَّا فِيْ مَسَاجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃِ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ بَنُوْ آدَمَ}[1]
’’جس نے لہسن،پیاز اور گندنا میں سے کچھ کھایا،وہ ہماری مساجد میں ہمارے قریب نہ آئے،کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے اذیت پہنچتی ہے جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت پہنچتی ہے۔‘‘
ایسے ہی سنن ابو داود و بیہقی،مصنف ابن ابی شیبہ،صحیح ابن حبان اور ابن خزیمہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
{مَنْ أَکَلَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ الْخَبِیْثَۃَ فَلَا یَقْرُبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا}[2]
’’جس نے اس خبیث پودے(لہسن)میں سے کچھ کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرا کر فرمائی۔‘‘
امام ابن حبان نے اسحاق سے نقل کیا ہے،جو اس حدیث کی سند کے ایک راوی ہیں کہ اس درخت سے مراد لہسن ہے۔ایسے ہی صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ،صحیح ابن حبان،سنن کبریٰ بیہقی،شرح السنہ،مسند ابی عوانہ و مسند احمد اور موطا امام مالک میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
{مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلَا یُؤْذِیْنَا فِيْ مَجَالِسَنَا،یَعْنِيْ الثُّوْمَ}[3]
’’جس نے اس خبیث پودے(لہسن)سے کچھ کھایا تو وہ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف ہر گز نہ پہنچائے۔‘‘
حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
[1] صحیح مسلم مع شرح النووي (3/ 5/ 59) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (683) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1475) صحیح الجامع (3/ 5/ 256) إرواء الغلیل (2/ 334) شرح السنۃ (2/ 387/ 389) الإحسان (4/ 522-523) رقم الحدیث (1634)
[2] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3239) سنن البیہقي (3/ 76) صحیح ابن خزیمۃ (3/ 83) موارد الظمآن (317) الإحسان (4/ 521۔522)
[3] صحیح مسلم مع شرح النووي (3/ 5/ 49) موطأ مع الزرقاني (1/ 40-دار المعرفۃ) صحیح الجامع (3/ 5/ 258) الإحسان (4/ 523-524)