کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 59
مرتبہ غسل کرتا ہوں،کیا اس کے جسم پر کوئی میل کچیل رہ جائے گی؟‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا:’’لَا یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَیْیٌٔ‘‘ ’’اس پر میل نامی کوئی چیز نہیں رہے گی۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {فکَذٰلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ،یَمْحُو اللّٰہُ بِھِنَّ الْخَطَایَا}[1] ’’یہی مثال ان پانچ نمازوں کی ہے،ان سے اﷲ تعالیٰ گناہوں کے میل کچیل کو محو کر دیتا ہے۔‘‘ حدیث نمبر13: طبرانی کبیر اور مسند احمد میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِنَّ کُلَّ صَلَاۃٍ تَحُطُّ مَا بَیْنَ یَدَیْھَا مِنْ خَطِیْئَۃٍ}[2] ’’بے شک ہر نماز اپنے سے پہلے کیے گئے(صغیرہ)گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔‘‘ حدیث نمبر14: نمازوں کے گناہوں کا کفارہ ہونے کا ذکر صحیح مسلم،مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {مَا مِنْ مُّسْلِمٍ یَتَطَھَّرُ فَیُتِمُّ الطَّھَارَۃَ الَّتِيْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَیُصَلِّيْ ھٰذِہِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلَّا کَانَتْ کَفَّارۃً لِّمَا بَیْنَھَا}[3] ’’کوئی مسلمان جب اچھی طرح وضو کرے اور پھر پنج گانہ نمازیں ادا کرے تو یہ ان کے مابین کیے گئے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔‘‘ [1] الفتح الرباني (2/ 202) مشکاۃ المصابیح (1/ 179) مختصر الترغیب (ص: 27) وقال: أخرجہ ابن ماجہ من حدیث عثمان،و مسلم أیضاً من حدیث جابر بنحوہ،صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (528) صحیح مسلم مع شرح النووي (3/ 5/ 170) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2301) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (448) صحیح الترغیب،رقم الحدیث )360( [2] صحیح الجامع (1/ 2/ 226) الفتح الرباني (2/ 204) صحیح الترغیب،رقم الحدیث )361( [3] الترغیب والترھیب للمنذري (1/ 200) والفتح الرباني (2/ 202) و مسلم مع النووي )2/ 3/ 115(