کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 58
{إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّيْ أُتِيَ بِذُنُوْبِہِ کُلِّھَا فَوُضِعَتْ عَلٰی رَأْسِہٖ وَعَاتِقَیْہِ فَکُلَّمَا رَکَعَ أَوْ سَجَدَ تَسَاقَطَتْ عَنْہُ}[1] ’’جب کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے تمام(صغیرہ)گناہ اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں،جب بھی وہ رکوع یا سجدہ کرتا ہے،وہ گناہ اس سے گر جاتے ہیں۔‘‘ حدیث نمبر11: اسی مفہوم کی دوسری دلیل وہ حدیث بھی ہے،جو صحیح مسلم،سنن ترمذی اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ وَ رَمَضَانُ إِلَیٰ رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ مَا بَیْنَھُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ}[2] ’’پانچ نمازیں اور جمعہ سے لے کر جمعہ تک اور رمضان سے لے کر رمضان تک اپنے مابین کے گناہوں کا کفارہ ہیں،جب تک کہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو(یعنی کبیرہ گناہ توبہ صادقہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا)۔‘‘ حدیث نمبر12: اسی بات کو ایک حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی عمدہ مثال دے کر سمجھایا ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جو سنن ترمذی و نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَھْراً بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ،ھَلْ یَبْقَیٰ مِنْ دَرَنِہٖ شَیْیٌٔ؟} ’’کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے گھر کے دروازے پر نہر بہہ رہی ہو،وہ اس میں روزانہ پانچ [1] صحیح الجامع (1/ 2/ 78) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث )1398( [2] الفتح الرباني (2/ 199) مشکاۃ المصابیح (1/ 179) صحیح الجامع (2/ 3/ 366) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (203) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث )177(