کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 57
مشغول ہوجاتا ہے،تو اﷲتعالیٰ کی نظرِ کرم اس انداز سے اس پر ہوجاتی ہے کہ جب تک وہ نماز میں مشغول رہتا ہے،اﷲ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے،چنانچہ سنن ابن ماجہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دَخَلَ فِيْ صَلَاتِہٖ أَقْبَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِوَجْھِہٖ،فَلَا یَنْصَرِفُ عَنْہُ حَتّٰی یَنْقَلِبَ أَوْ یُحْدِثَ حَدْثَ سُوْئٍ}[1] ’’جب کوئی شخص نماز میں داخل ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے وجہِ کریم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس وقت تک نظرِ کرم نہیں ہٹاتا،جب تک کہ وہ نماز سے فارغ نہ ہوجائے یا حادث(بے وضو)نہ ہوجائے۔‘‘ حدیث نمبر9: ذکرِ الٰہی کے دوران میں آدمی کو اﷲ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوجاتی ہے،جو ایک بہت بلند مقام ہے۔نماز بھی چونکہ ذکرِ الٰہی کا ایک اہم طریقہ ہے،لہٰذا دورانِ نماز بھی معیت الٰہی آدمی کے شامل حال ہوتی ہے،کیونکہ صحیح بخاری میں تعلیقاً اور سنن ابن ماجہ،صحیح ابن حبان اور مسند احمد میں موصولاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث قدسی مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ:أَنَا مَعَ عَبْدِيْ مَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ}[2] ’’اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں،جب بھی وہ مجھے یاد کرے اور جب بھی میرے ذکر سے اس کے ہونٹ ہلیں۔‘‘ حدیث نمبر10: یہ نمازیں گناہوں کو مٹاتی ہیں،کیونکہ معجم طبرانی،سنن بیہقی اور حلیۃ الاولیاء ابو نعیم میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح الجامع (1/ 2/ 62) رقم الحدیث (1614) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1023) السلسلۃ الصحیحۃ)1596( [2] صحیح الجامع (1/ 2/ 151) رقم الحدیث (1906) مشکاۃ المصابیح،رقم الحدیث (2285) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3792) موارد الظمآن،رقم الحدیث (2316(