کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 560
کہ کسی نے بھی اس حدیث کو مرفوعاً بیان نہیں کیا،تو بات دراصل یہ ہے کہ ان کے اس قول سے حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا،کیونکہ یہ ایسی بات ہے کہ جس میں رائے یا اجتہاد کو کوئی دخل ہی نہیں،لہٰذا ایسی حدیث مرفوع کے حکم میں ہی ہوتی ہے۔ غرض کہ اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ بھول چوک معاف ہے اور قبلہ رو تھوکنا ممنوع ہے۔اگر کوئی جان بوجھ کر تھوکے گا تو اس کا مؤاخذہ ہوگا،جیسا کہ احادیث میں وعید گزری ہے اور اگر کبھی بھول چوک ہوجائے تو اﷲ غفور و رحیم ہے۔بھول چوک کے احکام کی تفصیل کے لیے دیکھیں:’’جامع العلوم والحکم لابن رجب‘‘ اور ’’النسیان و أثرہ في الأحکام الشرعیۃ‘‘ للشیخ یحییٰ حسین الفیفی طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۔[1] آدابِ مسجد اور آدابِ کعبہ کے مابین مشترک یہ موضوع تو ضروری حد تک مکمل ہوا،جبکہ دیگر کتنے ہی آداب و احکامِ مساجد ابھی باقی ہیں،جن میں سے بعض اُمور کا تذکرہ ضروری ہے۔
[1] اس سلسلے میں (قبلہ رو مت تھوکیے) اور احترامِ قبلہ کے عنوانات کے تحت ہمارا ایک مفصل مقالہ ماہنامہ محدّث بنارس اور ماہنامہ صراطِ مستقیم اور پاکستان کے بعض مجلات میں شائع ہو چکا ہے۔