کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 56
یہ حدیث اور اس سے پہلے بعض احادیث ہم نے اول وقت پر نماز ادا کرنے کے افضل ہونے کے دلائل کے ضمن میں ذکر کی تھیں۔ حدیث نمبر7: اس مفہوم کی ایک حدیث قدسی بھی ہے،جو مسند طیالسی،کتاب الصلوۃ محمد بن نصر مروزی اور معجم کبیر طبرانی میں صحیح سند سے مروی ہے،جس میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَقَالَ:یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ:إِنِّيْ قَدْ فَرَضْتُ عَلٰی أُمَّتِکَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ،فَمَنْ وَافٰی بِھِنَّ عَلٰی وُضُوْئِھِنَّ وَمَوَاقِیْتِھِنَّ وَرُکُوْعِھِنَّ وَسُجُوْدِھِنَّ،کَانَ لَہٗ عِنْدِيْ بِھِنَّ عَھْدٌ أَنْ أُدْخِلَہٗ بِھِنَّ الْجَنَّۃَ وَمَنْ یَّلْقَانِيْ اِنْتَقَصَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئاً فَلَیْسَ لَہٗ عِنْدِيْ عَھْدٌ إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُہٗ وَإِنْ شِئْتُ رَحِمْتُہٗ}[1] ’’میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اﷲ عزوجل فرماتا ہے:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں،جس نے ان کے وضو،اوقات رکوع اور سجود کا صحیح طور پر حق ادا کیا،اس کے لیے میرا عہد ہے کہ اس کے عوض میں اُسے جنت میں داخل کروں گا اور جو اس حال میں مجھ سے ملا کہ ان میں سے کسی چیز میں کمی کر کے آیا،تو اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے،اگر میں نے چاہا تو اسے عذاب کروں گا اور اگر میں نے چاہا تو اس پر رحم کروں گا۔‘‘ اس حدیث شریف کی رُو سے نمازِ پنج گانہ کی صحیح طور پر پابندی کرنے والے شخص سے اﷲ تعالیٰ کا عہد و پیمان ہے کہ وہ اُسے جنت میں داخل کرے گا یہ حدیثِ قدسی ہے،جبکہ تقریباً اسی مفہوم کی ایک حدیثِ نبوی پہلے بھی گزری ہے۔ حدیث نمبر8: بعض احادیث میں نماز کے فضائل کچھ اس انداز سے مذکور ہیں کہ جب کوئی شخص نماز میں [1] صحیح الجامع (1/ 1/ 79) الصحیحہ،رقم الحدیث)842(