کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 54
{أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ؟۔۔۔اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا}[1] ’’اﷲ کے نزدیک محبوب ترین عمل کون سا ہے؟(تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)نماز کو اس کے(اول)وقت پر ادا کرنا۔‘‘ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم کے الفاظ یہ ہیں: {اَلصَّلَاۃُ فِيْ أَوَّلِ وَقْتِھَا}’’نماز کو اس کے اول وقت پر ادا کرنا۔‘‘ سنن دارقطنی و بیہقی میں بھی یہی الفاظ ہیں،مگر ان الفاظ والی روایت پر امام دارقطنی نے کلام کیا ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے ’’المجموع شرع المہذب‘‘ میں ان الفاظ والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے،لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے دوسرے طُرق بھی ہیں،جو کہ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں مروی ہیں۔[2] اس طرح اِن الفاظ والی روایت کو تقویت حاصل ہوگئی۔ اس سے آگے حدیث میں ہے کہ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ}’’پھر والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔‘‘ میں نے کہا:اس کے بعد! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {اَلْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ}’’اﷲ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ اس حدیث میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل بروقت نماز کو ادا کرنا کو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث نمبر4: ایک دوسری حدیث جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،اس میں ان امور سے بھی پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باﷲ کو شمار کیا ہے۔صاحبِ فتح الباری لکھتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں ہے،کیونکہ امام ابن دقیق العید کے بقول حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ میں بدنی اعمال مذکور ہیں،جبکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں جو ایمان باﷲ کا ذکر ہے تو وہ بدنی اعمال [1] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (527) صحیح مسلم مع شرح النووي (1/ 2/ 73) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث )594-595( [2] فتح الباري )2/ 10(