کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 53
حدیث نمبر 2: ایک دوسری حدیث میں نماز کو ان اسباب میں سے ایک سبب قرار دیا گیا ہے،جن کی وجہ سے کسی کا خون اور مال محفوظ ہوجاتا ہے،جیساکہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے،اسی طرح صحیحین،سنن اربعہ اور مستدرکِ حاکم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور نسائی میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملتے جلتے الفاظ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {اُمِرْتُ أَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ،فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَائَھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ،وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ}[1] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال و جہاد کرتا رہوں،جب تک وہ اس بات کا اقرار نہ کرنے لگیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اﷲ کے رسول ہیں،اگر اُنھوں نے اتنا کر لیا تو انھوں نے اپنے خون اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیے،سوائے اسلامی حق(قصاص یا قتل کے بدلے قتل)کے اور ان کا حساب اﷲ کے حوالے ہے۔‘‘ حدیث نمبر3: اسی سلسلے کی تیسری حدیث میں بروقت ادا کی گئی نماز کو افضل ترین اور اﷲ کے یہاں محبوب ترین اعمال میں سے قرار دیا گیا ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم،سنن نسائی،صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ،مسند احمد اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: [1] صحیح مسلم مع النووي (1/ 210-212) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (25) عن ابن عمر مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (5) عن ابن عمرو،رقم الحدیث (4) عن أبي ھریرۃ ’’التجرید الصریح‘‘ (1/ 103) عن أبي ھریرۃ،صحیح أبي داود،رقم الحدیث (2299) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2102) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (3705) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (71) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث )407(