کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 52
فضائلِ نمازِ پنج گانہ حدیث شریف کے آئینہ میں؟ ہم پچھلی سطور میں نماز پنج گانہ کے فضائل کا ذکر قرآنِ کریم کے حوالے سے کرچکے ہیں اور کچھ آیات بھی پیش کی جا چکی ہیں۔اسی سلسلے میں مزیدعرض کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کثیر ارشاداتِ گرامی میں بھی نماز پنج گانہ،نماز جمعہ اور دیگر نفلی نمازوں کے فضائل وارد ہوئے ہیں۔نمازِ پنج گانہ میں سے ہر نماز کے ساتھ مخصوص احادیث ہم ذکر کر چکے ہیں،لہٰذا اب ہم صرف ان احادیث میں سے کچھ ارشاداتِ گرامی کا انتخاب پیش کریں گے،جن کا تعلق مطلق نماز سے ہے۔ حدیث نمبر1: پہلی حدیث تو وہ ہے جس میں نماز کو اسلام کے پا نچ ارکان میں سے ایمان کے بعد سب سے پہلا اور ایک اہم رکن قرار دیاگیاہے،چنانچہ صحیح بخاری ومسلم،مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ،شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ،وَحَجِّ الْبَیْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ}[1] ’’اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم ہے۔اس بات کی گواہی و شہادت دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اﷲ کے رسول ہیں۔نماز قائم کرنا۔زکات ادا کرنا۔بیت اﷲ شریف کا حج کرنا اور رمضان المبارک کا روزہ رکھنا۔‘‘ [1] صحیح الجامع (2/ 3/ 10) رقم الحدیث (5840) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (8) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (62) سنن الترمذي،رقم الحدیث (2104) سنن النسائي،رقم الحدیث)4628(