کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 51
فرمایا کرتے تھے۔‘‘ وہ لوگ جو فحاشی و بدکاری میں مبتلا ہوں اور انھیں ان سے خلاصی پانے کی کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی ہو،ان کے لیے اور عام لوگوں کے لیے نماز کو برائیوں سے چھٹکارا پانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے،چنانچہ سورۂ عنکبوت میں ارشادِ الٰہی ہے: 11۔ ﴿اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ﴾[العنکبوت:45] ’’بے شک نماز فحاشی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ بعض لوگ نمازیں بھی پڑھتے جاتے ہیں اور برائیوں میں بھی لت پت رہتے ہیں۔کیا انھیں ان کی نماز برائیوں سے نہیں روکتی یا آخر وجہ کیا ہے؟ اس بات کا جواب ہم امام ابن کثیر رحمہ اللہ پر چھوڑتے ہیں،جسے اس کی تفصیل مطلوب ہو،وہ تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ مترجم اردو(4/175-176 طبع مکتبہ انسانیت لاہور)یا عربی میں سورۃ عنکبوت کی آیت(40)کی تفسیر دیکھ لے۔ سورت ہود میں اﷲ تعالیٰ نے نماز کو گناہوں کے لیے کفارہ قرار دیا ہے،جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: 12۔ ﴿وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ﴾[ھود:114] ’’اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر(صبح وشام)اور کچھ رات گزرنے پر،درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔یہ ایک یاد دہانی ہے،ان لوگوں کے لیے جو اﷲ کو یاد رکھنے والے ہیں۔‘‘ صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہے کہ ایک صحابی سے ایک گناہ سرزد ہوا اور نماز سے اس کی تلافی ہوگئی۔[1] [1] صحیح البخاری مع الفتح (2/ 78،8/ 355) اس پس منظر کے ساتھ اس واقعے پر مشتمل آیت و حدیث کی کچھ تفصیل ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔ان شاء اﷲ