کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 50
قرآنِ کریم میں اﷲ تعالیٰ نے ایسے ہی کئی دیگر مقامات پر بھی نماز پڑھنے والوں کو جہنم سے نجات،دنیوی و اخروی کامیابی اور نعیمِ جنت کی خوشخبریاں دی ہیں،پھر ایک مقام پر نماز کو مصائب و مشکلات میں حصولِ مدد و قوت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے،چنانچہ سورۂ بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 9۔ ﴿وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ [البقرۃ:45] ’’اور صبر و نماز کے ذریعے(اﷲ تعالیٰ سے)قوت پکڑو اور یہ(پابندیِ نماز)بڑا بھاری کام نظر آتا ہے،مگر(اﷲ کے حضور)عاجزی کرنے والوں کے لیے(یہ بہت آسان ہوجاتی ہے)۔‘‘ تقریباً اسی مفہوم کی سورۂ بقرہ کی ایک دوسری آیت بھی ہے،جہاں ارشادِ ربانی ہے: 10۔ ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ [البقرۃ:153] ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے(اﷲ سے)مدد حاصل کرو،یقین کیجیے کہ اﷲ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ دراصل جب مصیبت آتی ہے تو انسان عموماً راہِ صواب سے ہٹ جاتا ہے اور اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ اس سے کس طرح چھٹکارا حاصل ہو؟ اﷲ تعالیٰ نے نماز کا راستہ بتایا ہے کہ اس طرح تمھارا رُخ اﷲ کی طرف ہوجائے گا اور وہ تمام قدرتوں کا مالک اور مصائب کے دور کرنے پر قادر ہے۔ ویسے بھی مصیبت میں دوست یاد آتے ہیں،جن کے سامنے اپنا دُکھ بیان کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے اور ہمدردی کے دو بول سُن کر سکون حاصل کرے،مومن کا محبوب ترین دوست اﷲ تعالیٰ ہی ہے اور ہر آڑے وقت میں وہی اس کے کام آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی قسم کی مشکل پیش آتے ہی اﷲ کے حضور کھڑے ہوجاتے اور نماز ادا کیا کرتے تھے،جیسا کہ سنن ابوداود اور مسند احمد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا حَزَبَہٗ أَمْرٌ صَلّٰی}[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم کام(مشکل کام)پیش آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا [1] صحیح الجامع (2/ 4/ 215) وحسنہ۔صحیح سنن أبي داود (1/ 245) الفتح الرباني)2/ 207(