کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 48
4۔ ﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَتِھِمْ دَآئِمُوْنَ [المعارج:19 تا 23] ’’انسان تھڑدلا(بے صبرا)پیدا کیا گیا ہے،جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے،مگر وہ لوگ(اس عیب سے مبرّا ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں،جو اپنی نماز میں ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔‘‘ سورت توبہ میں تو اﷲ تعالیٰ نے نمازیوں اور مسجدوں کے آباد کاروں کے لیے بڑی عمدہ شہادت دی ہے،چنانچہ ارشادِ ربانی ہے: 5۔ ﴿اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ﴾[التوبۃ:18] ’’اﷲ کی مسجدوں کے آبادکار تو صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں اور اﷲ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔‘‘ نمازیوں اور مساجد کے دوسرے آبادکاروں کے لیے اس شہادتِ ربانی کے علاوہ سورۃ السجدہ میں اﷲ تعالیٰ نے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نمازیں پڑھنے اور قیام کرنے والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک کی بشارت دی ہے،جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: 6۔ ﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾[السجدۃ:16-17] ’’ان(مومنوں)کی پشتیں بستروں سے الگ رہتی ہیں(یعنی راتوں کو وہ قیام کرتے ہیں)وہ اپنے رب کو خوفِ(جہنم)اور طمع(جنت)کے ساتھ پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق سے(اﷲ کی راہ میں)خرچ کرتے ہیں،پھر جیسا کچھ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے لیے چھپایا گیا،اس کی کسی کو خبر نہیں،یہ ان کے اعمال کی ایک جزا ہے۔‘‘ نماز کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں اتنا کسی