کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 47
نمازِ پنج گانہ اور جمعہ کے فضائل قرآنِ کریم کی روشنی میں نمازِ پنج گانہ کی مطلق فضیلت کا ذکر شروع ہوا ہے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں پہلے قرآنِ کریم کے مختلف مقامات کا مطالعہ کریں۔چنانچہ تیسویں پارے کی سورۃ الاعلیٰ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 1۔ ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی﴾[الأعلیٰ:14-15] ’’فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی اور جس نے اپنے رب کا نام یاد کیا(اس کا ذکر کیا)اور پھر نماز پڑھی۔‘‘ یہاں اﷲ تعالیٰ نے نماز کو نمازی کے لیے فلاح و نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔تقریباً یہی بات ایک دوسرے انداز سے اﷲ تعالیٰ نے سورۃ المومنون کی پہلی دو آیتوں میں یوں بیان فرمائی ہے: 2۔ ﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِھِمْ خَاشِعُوْنَ [المؤمنون:1-2] ’’یقینا فلاح پاگئے ایمان لانے والے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔‘‘ آگے لغو باتوں سے پرہیز،زکات ادا کرنے،شرم گاہوں کی حفاظت،امانت داری،ایفاے عہد اور نمازوں کی پابندی جیسی صفات ذکر کرنے کے بعد فرمایا: 3۔ ﴿اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ [المؤمنون:10-11] ’’یہی لوگ جنت الفردوس کے وارث ہوں گے اور اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ کچھ ایسی بات اﷲ تعالیٰ نے سورۃ المعارج میں اس طرح بیان فرمائی ہے: