کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 41
6۔تعمیر مساجد،قرآن کریم میں 1 مشرکین کی بے بسی اور مومنین کا شعار: ﴿مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَ فِی النَّارِھُمْ خٰلِدُوْنَ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ﴾[التوبۃ:17-18] ’’مشرکین کا کام نہیں کہ آباد کریں اﷲ کی مسجدیں اور تسلیم کر رہے ہوں اپنے اوپر کفر کو،ان کے تمام اعمال برباد ہوگئے اور وہ ہمیشہ نارِ جہنم میں رہیں گے۔اﷲ کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے،جو اﷲ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو،نماز قائم کرتا ہو اور زکات ادا کرتا ہو اور اﷲ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو،سو امید ہے کہ وہ لوگ ہدایت والوں میں سے ہوں گے۔‘‘ 2 مساجد کا تقدّس: 1۔ ﴿وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾[الجن:18] ’’اور بلاشبہ یہ مساجد اﷲ کے گھر ہیں،لہٰذا ان میں اﷲ کے ساتھ کسی غیر اﷲ کو ہرگز نہ پکارو۔‘‘ 2۔ ﴿فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ﴾[النور:36] ’’(ہدایت پانے والے)ان گھروں میں پائے جاتے ہیں،جن کو بلند کرنے کا اور جن میں اس کے نام کی یاد کا اﷲ نے اِذن دیا ہے،ان میں لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ 3۔ ﴿وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ [الأعراف:29] ’’اور ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو،دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر۔‘‘ 4۔ ﴿یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾[الأعراف:31] ’’اے بنی آدم! ہر عبادت کے وقت اپنی زینت(لباس)سے آراستہ رہو۔‘‘