کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 39
ہے،جو آگے اپنے مقام پر آرہی ہے۔ 2۔ ﴿وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوبِھِنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُولَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُولَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُولَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآئِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُوْلِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾[النور:31] ’’اور(اے نبی!)مومن عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نظر بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں،سوائے اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں،مگر ان لوگوں کے سامنے:شوہر،باپ،شوہروں کے باپ(سُسر)،ان کے اپنے بیٹے،ان کے شوہروں کے بیٹے(دوسری بیویوں سے)،ان کے بھائی،ان کے بھائیوں کے بیٹے(بھتیجے)،ان کی بہنوں کے بیٹے(بھانجے)،ان کے اپنے میل جول کی عورتیں اور ان کے لونڈی غلام اور وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی(نفسانی)غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو،اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔اور اے ایمان والو! تم سب کے سب اﷲ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ اس آیت کی ضروری تفسیر ’’نماز کے لیے مرد و زن کے لباس‘‘ کے ضمن میں آئے گی۔ 3۔ ﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآئِ الّٰتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍم بِزِیْنَۃٍ وَّاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّھُنَّ وَاللّٰہُ