کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 33
الدَّارِ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ وَ اَزْوَاجِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ﴾[الرعد:22 تا 24] ’’اور وہ لوگ جنھوں نے رضائے الٰہی کے لیے صبر کا دامن تھامے رکھا اور نماز قائم کی اور ہمارے دیے ہوئے رزق سے ظاہر و پوشیدہ خرچ کیا اور بُرائی کا جواب بھلائی سے دیا،وہی لوگ ہیں،جن کے لیے اچھی عاقبت ہے،وہ جناتِ عدن میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ہی اچھے عمل والے ان کے والدین اور بیویاں بچے بھی اور فرشتے ہر طرف سے ان کے پاس آئیں گے(اور کہیں گے)تم پر سلام ہے کہ تم نے اپنے صبر کا یہ پھل پایا ہے اور یہ اچھا دارِ عاقبت ہے۔‘‘ ﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِھِمْ خَاشِعُوْنَ [المؤمنون:1-2] ’’یقینا فلاح پاگئے ایمان والے،جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔‘‘ 10۔ ﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ﴾[المؤمنون:9] ’’اور وہ لوگ(فلاح پا گئے)جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ 11۔ ﴿رِجَالٌ لاَّ تُلْھِیھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآئِ الزَّکٰوۃِ﴾[النور:37] ’’(اﷲ والے ہیں)وہ لوگ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اﷲ کا ذکر کرنے،نماز قائم کرنے اور زکات ادا کرنے سے غافل نہیں کرتے(اﷲ انھیں اپنا فضل و رزق بے شمار عطا کرتا ہے)۔‘‘ 12۔ ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ [النور:56] ’’اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو اور اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو،تاکہ تم رحم کیے جاؤ۔‘‘