کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 196
الغرض ان احادیث کی بنا پر ہی امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: ’’ذَھَبَ أَکْثَرُ الْعُلَمَائِ إِلَیٰ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ‘‘[1] ’’اکثر علماے امت کا یہی مذہب ہے کہ ران مقامِ ستر ہے۔‘‘ امام شوکانی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ و شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے اور ساتھ ہی ’’نیل الأوطار‘‘ میں لکھا ہے: ’’وَالْحَقُّ أَنَّ الْفَخِذَ مِنَ الْعَوْرَۃِ‘‘[2] ’’اور حق بات یہی ہے کہ رانیں مقامِ ستر(شرمگاہ)ہی ہیں۔‘‘ اس مسلک کی تائید بعض دیگر امور سے بھی ہوتی ہے،لیکن ان کا تذکرہ ہم بعد میں کریں گے۔ مقامِ ستر قرار نہ دینے والوں کے دلائل: اب آئیے! دوسرے مسلک والوں کے دلائل دیکھیں،جن کے نزدیک رانیں مقامِ ستر نہیں ہیں۔ پہلی دلیل: صحیح بخاری،مسند ابی عوانہ اور مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَوْمَ خَیْبَرَ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِہٖ حَتّٰی إِنِّيْ لَأَنْظُرُ إِلَیٰ بِیَاضَ فَخِذِہٖ}[3] ’’غزوہ خیبر کے دن نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران مبارک کو ننگا کیا،یہاں تک کہ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ صحیح بخاری شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں: {وَإِنَّ رُکْبَتِيْ لَتَمُسُّ فَخِذَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم} ’’میرا گھٹنا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چھو رہا تھا۔‘‘ یہی الفاظ حدیثِ انس رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح مسلم کی حدیث میں بھی ہیں،بلکہ یہ ساری حدیث ہی [1] فتح الباري (1/ 481) [2] نیل الأوطار (1/ 2/ 62) [3] صحیح البخاري (1/ 479،480) المنتقیٰ (1/ 2/ 64) و نصب الرایۃ (1/ 297)