کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 195
’’بے شک ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک کا درمیانی سارا حصہ ہی مقامِ ستر ہے۔‘‘ جبکہ ان میں سے بعض روایات کے الفاظ ہیں: {مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ عَوْرَۃٌ}[1] ’’ناف اور گھٹنوں کے مابین کا درمیانی سارا حصہ مقامِ ستر ہے۔ ان احادیث کی استنادی حیثیت پر سَرسَری نظر: ایسی ہی بعض احادیث اور بھی ہیں،جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ران مقامِ ستر ہے،لیکن وہ احادیث انتہائی ضعیف ہیں،البتہ یہ احادیث جو ہم نے ذکر کی ہیں،ان میں سے بھی ہر حدیث پر کچھ نہ کچھ کلام کیا گیا ہے،جس کی تفصیل ’’فتح الباري‘‘(ص:478-479)،’’نیل الأوطار‘‘(1/2/63)،’’نصب الرایۃ‘‘(1/296-297)اور ’’إرواء الغلیل‘‘(1/266-267-295 تا 303)میں دیکھی جا سکتی ہے۔ البتہ محدّثینِ کرام کا کہنا ہے کہ چونکہ اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قوت اختیار کر جاتی ہیں،کیونکہ ان کی اسناد میں کوئی متہم راوی نہیں ہے،بلکہ ان اسناد کے ضُعف کے اسباب زیادہ سے زیادہ اضطراب،مجہول رواۃ اور معمولی و متحمل کمزوری کے گرد ہی گھومتے ہیں اور ایسی اسناد کے مجموعے پر مبنی حدیث محدّثینِ کرام کے نزدیک درجۂ قبول کو پہنچ جاتی ہے،یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ جیسے نقاد نے ان کی موافقت کی ہے اور بعض کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن درجہ قرار دیا ہے،حتیٰ کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی ان میں حضرت ابن عباس،جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ عنہم کی روایات کو اگرچہ موصولاً و مسنداً تو بیان نہیں کیا،البتہ انھیں اپنی صحیح کے باب ’’ما یذکر في الفخذ‘‘ کے ترجمے میں تعلیقاً ذکر کیا ہے اور حدیثِ جرہد رضی اللہ عنہ کو امام بخاری نے اس مسئلے میں احوط قرار دیا ہے کہ اس پر عمل کرنے میں یعنی ران کو مقامِ ستر ماننے میں ہی زیادہ احتیاط ہے،اگرچہ دوسرے مسلک کی تائید کرنے والی حدیثِ انس رضی اللہ عنہ کو سند کے اعتبار سے زیادہ قوی قرار دیا ہے۔[2] [1] الإرواء (1/ 266،303) نصب الرایۃ (1/ 298) صحیح الجامع،رقم الحدیث (5583) [2] صحیح البخاري (1/ 478) الإرواء (1/ 297،298)