کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 193
اُردو زبان کے لفظ شرم گاہ کا مدلول نہیں بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے،کیونکہ اُردو میں تو اس لفظ کا مدلول بہت محدود یعنی جائے پیشاب و پاخانہ ہے،جبکہ فقہ میں اس میں کئی اعضاے جسم بھی شامل ہیں،البتہ تہذیب السنن میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’بعض اعضا کو عورۃ مغلّظہ اور بعض کو عورۃ خفیفہ کہا جاتا ہے،اور یہ صرف مَردوں کی نسبت ہے اور نماز میں ان سب کا ستر ضروری ہے۔‘‘[1] مَردوں کا مقامِ ستر: ظاہر ہے کہ نماز کے لیے مرد و زن کے ’’ستر‘‘ میں کافی فرق ہے،آئیے! اس سلسلے میں پہلے دیکھیں کہ نماز کے لیے مَردوں کا مقامِ ستر کیا ہے؟ اس سلسلے میں بنیادی طور پر تو عورۃ مغلّظہ یعنی جائے پیشاب و جائے پاخانہ ہیں،جو اُردو زبان میں شرم گاہ کا مدلول ہیں اور ان کے مقامِ ستر ہونے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں،البتہ اس کے علاوہ جو رانیں ہیں،ان کے مقامِ ستر ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے،تو آیئے اس سلسلے میں جانبین کے دلائل کا مطالعہ کریں۔ رانوں کو مقامِ ستر کہنے والوں کے دلائل: آئیے! پہلے اس فریق کے دلائل دیکھیں جن کے نزدیک یہ اعضاے جسم یعنی رانیں مقامِ ستر ہیں،چنانچہ ان کا استدلال ایک تو اس حدیث سے ہے،جو صحیح بخاری میں تعلیقاً،تاریخ امام بخاری،مستدرکِ حاکم اور مسندِ احمد میں موصولاً حضرت محمد بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں: {مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلَیٰ مَعْمَرٍ وَ فَخِذَاہُ مَکْشُوْفَتَانِ} ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے،جبکہ ان کی دونوں رانیں ننگی تھیں۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {غَطِّ فَخِذَیْکَ فَإِنَّ الْفَخِذَیْنِ عَوْرَۃٌ}[2] [1] تہذیب السنن (6/ 17) الإرواء (1/ 301) [2] صحیح البخاري مع الفتح (1/ 478) بلفظ: (( الفخذ عورۃ )) المنتقیٰ (1/ 2/ 63) صحیح الجامع،رقم الحدیث (4157) مسند أحمد (5/ 290) مستدرک الحاکم (4/ 180) و سنن البیھقي (2/ 228) بحوالہ تحقیق مصابیح السنۃ (2/ 407)