کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 191
﴿یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾[الأعراف:31] ’’اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت زینت اختیار کر لیا کرو۔‘‘ یاد رہے کہ اس آیت میں جو دو لفظ ہیں:مسجد اور زینت۔ان سے متبادر مفہوم تو یہی لگتا ہے کہ مسجد میں جاتے وقت زینت اختیار کر کے جانا چاہیے،لیکن یہاں مسجد سے مراد محض مسجد ہی نہیں بلکہ نماز پڑھنے اور طواف کرتے وقت زینت اختیار کرنا ہے۔جیسا کہ تفسیر جلالین میں﴿عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾کا معنیٰ و مفہوم متعین کرنے کے لیے لکھا ہے: ’’عِنْدَ الصَّلَاۃِ وَالطَّوَافِ‘‘[1] ’’(زینت اختیار کر لیا کرو)نماز پڑھتے اور طواف کرتے وقت۔‘‘ نماز کے ساتھ طواف بھی اس لیے شامل ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ آیت ان مشرکین کی تردید کے لیے نازل ہوئی ہے،جو عریاں ہو کر بیت اﷲ کا طواف کیا کرتے تھے،جیسا کہ صحیح مسلم،سنن نسائی،تفسیر ابن جریر(واللفظ لہٗ)میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کا سبب و شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ عُرَاۃً،الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ،وَالرِّجَالُ بِالنَّھَارِ وَالنِّسَائُ بِاللَّیْلِ‘‘ ’’وہ مردو زن بیت اﷲ شریف کا طواف عریاں ہو کر کیا کرتے تھے،مرد دن کے وقت اور عورتیں رات کے وقت۔‘‘ ان میں کوئی عورت تو یہاں تک بھی کہتی تھی ع اَلْیَوْمَ یَبْدُوْ بَعْضُہٗ أَوْ کُلُّہٗ وَمَا بَدَا مِنْہُ فَلَا أُحِلُّہٗ ’’آج جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہو یا سارا جسم اور جو بھی ظاہر ہو میں اُسے(دوسروں کے لیے اس کا دیکھنا)حلال نہیں کرتی ہوں۔‘‘ تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾[الأعراف:31] [2] [1] تفسیر الجلالین (ص: 196،197 دار المعرفۃ بیروت) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (9/ 18/ 162)