کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 187
بخاری شریف کے ایک ترجمۃ الباب میں تعلیقاً جسے حارث بن ابی اُسامہ نے موصولاً حضرت عبیدہ بن سلمانی سے روایت کیا ہے،جس میں وہ ریشم کے بچھونے کا حکم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ھُوَ کَلُبْسِہِ‘‘[1] ’’یہ بھی پہننے کی طرح ہی(حرام)ہے۔‘‘ قارئینِ کرام! لباس سے متعلق مسائل کا سلسلہ تو کافی طویل ہے،جس میں لباس کے نام اور ان کی شکلیں اور پھر جائز و ناجائز اور پسندیدہ رنگوں کا تذکرہ بھی آجاتا ہے،جو الگ ایک مستقل موضوع ہے،جبکہ سرِدست ان سب امور کا بیان ہمارے پیشِ نظر نہیں،ہم تو صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ نماز کے لیے کیا ریشم والا یا پھر ریشم ملا لباس جائز ہے؟ ریشم کے لباس میں نماز: اس سلسلے میں مطلق احادیث تو کتنی ہی ذکر کر دی گئی ہیں کہ ریشم کا لباس مَردوں کے لیے حرام ہے۔ایک حدیث میں خاص نماز کے متعلق بھی اس کا حکم مذکور ہے،جس کی رُو سے امام شافعی رحمہ اللہ اور بعض دیگر اہلِ علم کے نزدیک ریشم کے لباس میں نماز بھی حرام ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم،سنن نسائی اور مسندِ احمد میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: {أُھْدِيَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَرُّوْجُ حَرِیْرٍ فَلَبِسَہٗ،ثُمَّ صَلّٰی فِیْہِ،ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَہٗ نَزْعاً شَدِیْداً،کَالْکَارِہِ لَہٗ،ثُمَّ قَالَ:لَا یَنْبَغِيْ ھٰذَا لِلْمُتَّقِیْنَ}[2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی قبا ہدیہ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ریشمی قبا پہنی اور نماز پڑھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی کے ساتھ اتار پھینکا،جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے نفرت ہو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کپڑا متقی لوگوں کے لائق نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث میں جو سختی کے ساتھ اتارنے اور مسند احمد میں((ثُمَّ أَلْقَاہُ}کے الفاظ میں ’’اسے پھینکنے‘‘ کا ذکر آیا ہے اور نفرت کرنے کا بھی تذکرہ ہوا ہے،ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ ریشم کو اسی وقت حرام کیا گیا تھا،اس سے پہلے وہ حرام نہیں تھی،جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری(10/270)میں لکھا ہے۔ [1] صحیح البخاري مع الفتح (10/ 291) باب افتراش الحریر [2] صحیح البخاري مع الفتح (10/ 269،1/ 485) المنتقیٰ (1/ 2/ 80) صحیح الجامع (3/ 6/ 253) صحیح مسلم مع شرح النووي (7/ 14/ 51-52) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (742)