کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 186
نَّجْلِسَ عَلَیْہِ}[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا کہ ہم سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھائیں اور پیئیں اور اس سے بھی کہ ہم اس پر بیٹھیں۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بخاری کی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی رو سے جمہور اہلِ علم کے نزدیک ریشم کے بچھونے پر بیٹھنا بھی حرام ہے اور بعض فقہا نے کچھ قیاسی قسم کے دلائل سے ریشم کے بچھونے پر بیٹھنے کا جواز کشید کرنے کی کوشش کی ہے،لیکن صاحبِ نیل الاوطار نے ان کی اس دلیل کو نص کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے باطل قرار دیا ہے۔ ایسے ہی صحیح مسلم اور سنن نسائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {نَھَانِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْجُلُوْسِ عَلَی الْمَیَاثِرِ} ’’مجھے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیباج کے بچھونوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔‘‘ آگے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ’’المیاثر‘‘ کی تشریح بھی خود ان الفاظ سے کی ہے کہ ’’میاثر‘‘ ریشم ملے وہ بچھونے ہیں جو عورتیں اپنے شوہروں کے لیے سواری پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں،جو سرخ ارجوانی(سرخ رنگ)کی چادروں جیسے ہوتے تھے۔[2] صحیح بخاری میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر مذکور ہے،لیکن ایک باب کے ترجمے میں تعلیقاً آئی ہے،اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث لائے ہیں،جو صحیح مسلم میں بھی مروی ہے اور ترمذی میں بھی اور شرح السنہ میں بھی،جس میں وہ بیان کرتے ہیں: {نَھَانَا النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْمَیَاثِرِ الْحُمُرِ وَعَنِ الْقِسِّيِّ}[3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیباج کے بچھونوں اور ریشم ملے لباس سے منع فرمایا۔‘‘ [1] صحیح البخاري مع الفتح (10/ 291) المنتقیٰ (1/ 2/ 85) مشکاۃ المصابیح (2/ 1241) [2] المنتقیٰ (1/ 2/ 86) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (4969) [3] صحیح البخاري مع الفتح (10/ 292) والنیل أیضاً و صحیح الجامع (3/ 6/ 58) مشکاۃ المصابیح (2/ 1248) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (4770) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3654) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3417) عن علي رضی اللہ عنہ،صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1442) عن البراء،و الصحیحۃ،رقم الحدیث (2396) صحیح مسلم مع شرح النووي (7/ 14/ 31) عن البراء۔