کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 185
’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کا مرض ہونے کی وجہ سے ریشمی لباس پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔‘‘ جبکہ ترمذی شریف کے الفاظ اور بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ایک غزوے کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جوئیں پڑ جانے کی شکایت کی تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ریشم کی قمیص پہننے کی رخصت عطا فرمائی۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: ’’انھیں خارش کی تکلیف جوؤں کے اثر سے ہوگئی تھی اور امام طبری سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو جو ریشم کا لباس پہننے سے کم ہوجائے تو وہ شخص ریشم کے استعمال کی ممانعت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘[1] امام شوکانی رحمہ اللہ ’’نیل الأوطار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جمہور اہلِ علم کے نزدیک خارش اور جوؤں کے لیے ریشم پہنی جا سکتی ہے اور امام مالک رحمہ اللہ نے اختلاف کیا ہے،جبکہ یہ صحیح حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔دوسری بیماریاں(جن میں ریشم مفید ہوسکتی ہو)وہ بھی انھی پر قیاس کی جا سکتی ہیں اور ان کے لیے بھی یہ جائز ہے۔[2] ریشم کے بچھونے: یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جس طرح ریشم کا لباس منع ہے،اس کے بچھونے بنانا اور ان پر بیٹھنا بھی اسی طرح ممنوع و حرام ہے،جس طرح اس کا پہننا ہے،چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {نَھَانَا النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ نَّشْرَبَ فِيْ آنِیَۃِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ،وَأَنْ نَّأْکُلَ فِیْھَا،وَأَنْ [1] فتح الباري (10/ 295) [2] نیل الأوطار (1/ 2/ 89)