کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 183
ذکر کی ہیں،جو فاطمہ بن شیبہ بن ربیعہ تھیں۔یہ قاضی عیاض اور علامہ رسلان کے افادات ہیں۔[1] اس حدیث میں ریشم کے حلے کے لیے جو لفظ ’’سیراء‘‘ آیا ہے،اس کی تشریح و تفہیم میں اہلِ علم و لغت کے مختلف اقوال ہیں۔مثلاً قاموس میں ہے: 1۔ یہ ایسی چادریں ہیں،جس میں ریشم،پیتل اور خالص سونے کے ریشے استعمال کیے گئے ہوں۔ 2۔ امام خطابی،خلیل اصمعی اور ابو داود نے کہا ہے کہ یہ ایسی چادریں ہیں،جن میں ریشمی تانا ہو۔ 3۔ ازہری نے کہا ہے کہ مختلف رنگوں والی چادر کو ’’سیراء‘‘ کہتے ہیں۔ 4۔ مالک نے کہا ہے کہ ریشم ملا کپڑا ہے۔ 5۔ جوہری کا کہنا ہے کہ وہ کپڑا جس میں پیتل کی تاریں یعنی ریشے استعمال ہوں۔ 6۔ کسی نے خالص ریشم کو ’’سیراء‘‘ کہا ہے۔[2] اس حدیث سے ریشم ملے کپڑے کو مَردوں کے لیے استعمال کی حرمت اور عورتوں کے لیے حلّت معلوم ہوگئی۔،ماہرینِ لغتِ عرب کی ان تصریحات کی رُو سے تو ’’سیراء‘‘ اس کپڑے ہی کو کہا جاتا ہے،جو خالص ریشم کا نہیں بلکہ ریشم کے امتزاج سے بنا ہو اور اگر اسے خالص ریشم کا مان لیا جائے تو پھر اس کی حرمت میں کوئی کلام ہی نہیں رہ جاتا۔ ریشم کی جائز مقدار: ریشم کا کسی کپڑے میں کتنا استعمال جائز ہے؟ اس سلسلے میں بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ اگر کسی کپڑے میں دو انگلیوں یا تین انگلیوں،حد چار انگلیوں کے برابر ریشم استعمال کیا گیا ہو تو وہ جائز ہے۔چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھیٰ عَنْ لُبُوْسِ الْحَرِیْرِ إِلَّا ھٰکَذَا،وَرَفَعَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِصْبَعَیْہِ الْوُسْطَیٰ وَالسَّبَابَۃَ وَضَمَّھُمَا}[3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے لباس سے منع فرمایا،سوائے اتنے کے اور(مقدار کی [1] نیل الأوطار (1/ 2/ 85) [2] نیل الأوطار (1/ 2/ 85) و فتح الباري (19/ 297) [3] صحیح البخاري مع الفتح (10/ 1284) رقم الحدیث (5829) المنتقیٰ (1/ 2/ 87) مشکاۃ المصابیح (2/ 1242) صحیح مسلم مع شرح النووي (7/ 14/ 46)