کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 181
’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پکڑی اور دائیں ہاتھ میں رکھ لی اور سونا پکڑا اپنے بائیں دستِ مبارک میں رکھ لیا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِنَّ ھٰذَیْنِ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُوْرِ أُمَّتِيْ}[1] ’’یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں۔‘‘ سنن ابن ماجہ میں ساتھ ہی یہ الفاظ بھی مروی ہیں: {حِلٌّ لِّأُنَاثِھِمْ}[2] ’’یہ ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔‘‘ سنن کبریٰ بیہقی اور معانی الآثار طحاوی میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ایک تیسری حدیث مروی ہے،جس میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور ریشم کو مَردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال قرار دیا ہے۔[3] اِن احادیث کے پیشِ نظر صرف اس بات کی طرف اشارہ ہی کرنا کافی لگتا ہے کہ ہمارے وہ دوست،بھائی اور بزرگ جو مرد ہو کر بھی سونے کی انگوٹھیاں،چین،ٹاپس اور لاکٹ وغیرہ پہنے پھرتے ہیں اور شادی کی انگوٹھی سمجھ کر سجائے پھرتے ہیں،انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مردوں کے لیے حرام ہے،شادی کی نشانی ہو یا کسی دوسری تقریب کی۔ ریشم ملا کپڑا: البتہ یہ تو معاملہ ہے،مطلق ریشم یا خالص ریشم کے کپڑے کا جبکہ اگر کوئی کپڑا ایسا ہو،جس میں تانا یا بانا دونوں میں سے کوئی ایک چیز ریشم کی ہو،یعنی کسی کپڑے کا نصف مواد ریشم کا اور نصفِ ثانی کسی دوسری چیز کاٹن وغیرہ کا ہو تو اس کا حکم مَردوں کے لیے خالص ریشم کے کپڑے والا ہی ہے،حتیٰ کہ اگر کسی کپڑے میں بنائی کے وقت ریشم کے تاروں کی پٹیاں بنائی گئی ہوں جو نصف سے اگرچہ کم ہوں،مگر وہ ریشم مجموعی طور پر کپڑے میں کافی مقدار میں ہوجائے تو وہ بھی ممنوع ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم [1] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3422) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (4750) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3595) صحیح ابن حبان،رقم الحدیث (1465) [2] غایۃ المرام وصححہ بمجموع طرقہ (ص: 64۔66) نیل الأوطار (1/ 2/ 84) الإرواء (1/ 307،308) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث 3595) [3] إرواء الغلیل (1/ 308)