کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 180
پہلی حدیث ہے،امام شوکانی رحمہ اللہ اس موضوع کی بعض احادیث نقل کرنے اور بعض کی طرف اشارہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وَإِذَا لَمْ تُفِدْ ھٰذِہِ الْأَدِلَّۃُ التَّحْرِیْمَ،فَمَا فِي الدُّنْیَا مُحَرَّمٌ‘‘ ’’جب یہ دلائل بھی ریشم کی حرمت کا فائدہ نہیں دیتے تو پھر دنیا میں کوئی چیز حرام ہے ہی نہیں۔‘‘ پھر آگے اعتراضات کے جواب دیے ہیں۔[1] عورتوں کے لیے ریشم اور سونے کی اجازت: ان احادیث سے بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریشم مرد و زن سب کے لیے ہی ممنوع ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض دیگر احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ عورتوں کے لیے ان کا استعمال جائز ہے،چنانچہ سنن ابو داود،ترمذی،نسائی،بیہقی،مسند احمد،مسند طیالسی،معجم طبرانی،مستدرکِ حاکم اور معانی الآثار طحاوی میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {أُحِلَّ الذَّھَبَ وَالْحَرِیْرَ لِلْأُنَاثِ مِنْ أُمَّتِيْ وَحُرِّمَ عَلَیٰ ذُکُوْرِھَا}[2] ’’سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال کیے گئے ہیں اور یہ مردوں پر حرام کیے گئے ہیں۔‘‘ ایسی ہی دیگر احادیث کی بنا پر اس بات پر اجماع امت نقل کیا گیا ہے کہ ریشم مَردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے۔[3] سونے اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال قرار دینے والی ایک حدیث سنن ابو داود،نسائی،ابن ماجہ،صحیح ابن حبان،معانی الآثار طحاوی اور مستدرکِ حاکم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں: {أَخَذَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم حَرِیْرًا فِيْ یَمِیْنِہٖ،وَأَخَذَ ذَھَبًا فَجَعَلَہٗ فِيْ شِمَالِہٖ} [1] نیل الأوطار (1/ 2/ 82-83) [2] المنتقیٰ (1/ 2/ 83) صحیح الجامع (1/ 119) والإرواء (1/ 305) مصنف عبدالرزاق (11/ 68 و مسند أحمد (4/ 392) بحوالہ تحقیق المصابیح (3/ 196) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1404) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (4754) و صحیح الجامع،رقم الحدیث (209) [3] نیل الأوطار (1/ 2/ 82)