کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 179
میں اور سورۃ الفاطر،آیت:33 میں)اﷲ تعالیٰ کا اہلِ جنت کے بارے میں ارشاد ہے: ﴿وَلِبَأْسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ﴾’’اور جنت میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔‘‘ پس جس نے دنیا میں ریشم پہنی وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔امام نسائی و احمد رحمہ اللہ نے یہ معنیٰ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: {وَمَنْ لَّمْ یَلْبَسْہُ فِي الْآخِرَۃِ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ}[1] ’’جسے آخرت میں یہ نصیب نہ ہوئی،وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی قول نقل کیا ہے کہ اﷲ کی قسم وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور پھر اسی آیت کو ذکر کیا۔البتہ سنن نسائی اور مستدرکِ حاکم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور مسند طیالسی میں مرفوعاً مروی ہے کہ اگر وہ جنت میں داخل ہوگیا تو لوگ وہاں ریشم پہنیں گے،مگر یہ نہیں پہن پائے گا۔‘‘[2] لیکن یہ مرفوعاً ضعیف ہے۔[3] اسی بات پر حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی صحیح بخاری و مسلم،سنن ابو داود،نسائی،ابن ماجہ اور مسندِ احمد کی وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے،جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرَ فِي الدُّنْیَا مَنْ لَّا خَلَاقَ لَہٗ فِي الْآخِرَۃِ}[4] ’’دنیا میں وہی ریشم پہنتا ہے،جسے آخرت میں یہ نصیب نہ ہونے والی ہو۔‘‘ صحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {لَا تَلْبَسُوْا الْحَرِیْرَ فَإنَّہٗ مَنْ لَّبِسَہٗ فِي الدُّنْیَا لَمْ یَلْبَسْہُ فِي الْآخِرَۃِ}[5] ریشم مت پہنو! جس نے دنیا میں ریشم پہنی تو آخرت میں اسے نصیب نہ ہوگی۔‘‘ انہی الفاظ پر مبنی ایک حدیث حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی گزری ہے،جو اس موضوع کی [1] إرواء الغلیل (1/ 309) وصححہ [2] نیل الأوطار (1/ 2/ 82) فتح الباري (10/ 288) [3] کما في غایۃ المرام (ص: 66) [4] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (5835) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (1335) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3408) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (4899) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3591) [5] صحیح الجامع (3/ 6/ 180) صحیح مسلم مع شرح النووي (7/ 14/ 44)