کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 177
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِنَّ جِبْرِیْلَ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ إِنَّ بِھِمَا خَبَثًا} ’’مجھے تو جبرائیل علیہ السلام نے آکر بتایا تھا کہ جوتوں کو کوئی نجاست لگی ہوئی ہے(لہٰذا میں نے اتار دیے تھے)۔‘‘ آیندہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقل ایک اصول وضع فرما دیا اور فرمایا: {فَإِذَا جَآئَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُقَلِّبْ نَعْلَیْہِ،وَلْیَنْظُرْ فِیْھِمَا،فَإِنْ رَأَی خَبَثًا فَلْیَمْسَحْہُ بِالْأَرْضِ،ثُمَّ لْیُصَلِّ فِیْھِمَا}[1] ’’جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیے کہ اچھی طرح الٹ پلٹ کر کے اپنے جوتوں کی پڑتال کرے اور انھیں اچھی طرح دیکھ لے،اگر وہ ان میں کوئی نجاست لگی دیکھے تو اسے اچھی طرح زمین پر رگڑ لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔‘‘ اس حدیث سے پتا چلا کہ جوتوں سمیت بھی نماز ہوجاتی ہے،بشرطیکہ انھیں کوئی نجاست وغیرہ نہ لگی ہو اور اگر کچھ لگا ہو تو اسے زمین پر رگڑنے ہی سے نجاست زائل ہوجائے گی اور نماز کے لائق ہوجائیں گے۔البتہ اس معاملے میں ممکنہ حد تک احتیاط کی ضرورت ہے اور اگر کوئی مکمل احتیاط کو اختیار کر کے جوتوں میں نماز پڑھتا ہے تو دیکھنے والوں کو بلاوجہ شور نہیں برپا کر دینا چاہیے،کیونکہ یہ عمل خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت اور جائز ہے۔[2] بہر حال یہ تمام احادیث نماز کے لیے لباس(اور جوتوں)کی طہارت و نظافت کے التزام کی دلیل ہیں۔ مَردوں کے لیے ریشم کا لباس: لباس کی طہارت و پاکیزگی کے لیے ایک بنیادی بات تو یہ بھی ہے کہ اس لباس کا مواد کسی ایسی چیز پر مبنی نہ ہو،جس کا پہننا شریعتِ اسلامیہ میں حرام قرار دیا گیا ہو،مثلاً مَردوں کے لیے ریشم [1] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (605) موارد الظمآن للہیثمي،رقم الحدیث (360) [2] اس سلسلے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث دیکھنے کے لیے ملاحظہ کریں: صحیح البخاري (1/ 494) باب الصلاۃ في النعال۔