کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 176
اسی سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ جس بچھونے پر ایسا کیا جائے،وہ بچھونا بھی ناپاک نہیں ہوتا،بلکہ لباس کی طرح وہ بھی پاک ہی رہتا ہے،ہاں اگر کچھ نظر آئے تو اس جگہ کو دھو دینا کافی ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان احادیث سے اور دو باتیں معلوم ہوئیں،پہلی یہ کہ محض وہم و گمان پر نہیں بلکہ یقین پر عمل کرنا چاہیے،کیونکہ جس کپڑے میں جماع کیا جائے،اسے کچھ لگ جانے کا خدشہ ہوتا ہی ہے،لیکن نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض خدشے سے نہیں بلکہ یقین ہوجانے اور کچھ نظر آجانے پر اسے دھونے کا حکم فرمایا ہے اور دوسری بات جیسا کہ امام ابن رسلان فرماتے ہیں: ’’عورت کی شرم گاہ سے نکلنے والی رطوبت کے ناپاک نہ ہونے کا بھی پتا چلتا ہے،کیوںکہ ان احادیث میں سے دوسری حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کرنے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے اس کپڑے کو دھوتے تھے اور اگر دھوتے ہوتے تو منقول ہوتا،جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ جماع کے بعد جب ذَکر شرم گاہ سے نکلتا ہے تو اس پر اس کی رطوبت لگی ہوتی ہے۔‘‘[1] 3۔ تیسری حدیث سنن ابو داود،صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ،مسندِ احمد اور مستدرکِ حاکم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں: {إِنَّہٗ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلَّی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ،فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَھُمْ} ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور(دورانِ نماز ہی)اپنے جوتے اتار دیے(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھا دیکھی)لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر پھرے تو پوچھا: {لِمَ خَلَعْتُمْ؟}’’تم نے جوتے کیوں اتارے تھے؟‘‘ تو لوگوں نے کہا: {رَأَیْنَاکَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا} ’’ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے ہیں،لہٰذا ہم نے بھی اتار دیے۔‘‘ [1] نیل الأوطار (1/ 2/ 121)