کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 175
نماز کے لیے کپڑوں کی طہارت و نظافت کے التزام کا پتا درج ذیل احادیث سے بھی لگتا ہے۔ 1۔ سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ رہا تھا: {أُصَلِّيْ فِي الثَّوْبِ الَّذِيْ آتِيْ فِیْہِ أَھْلِيْ؟} ’’کیا میں اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں،جسے پہن کر میں اپنی اہلیہ سے جماع کرتا ہوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {نَعَمْ،إِلَّا أَنْ تَرَیٰ فِیْہِ شَیْئاً فَتَغْسِلُہٗ}[1] ’’ہاں(پڑھ سکتے ہو)سوائے اس کے کہ اگر تم اس میں کچھ لگا دیکھو تو اسے دھو لو۔‘‘ 2۔ دوسری حدیث تبویبِ بخاری میں اشارتاً اور سنن ابی داود،نسائی،ابن ماجہ،صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ اور مسندِ احمد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: {ھَلْ کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُصَلِّيْ فِي الثَّوْبِ الَّذِيْ یُجَامِعُ فِیْہِ؟} ’’کیا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کرتے تھے؟‘‘ تو انھوں نے جواباً فرمایا: {نَعَمْ،إِذَا لَمْ یَکُنْ فِیْہِ أَذًی}[2] ’’ہاں(پڑھ لیتے تھے)بشرطیکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہ لگی ہو(جسے دھونا یا کھرچنا ضروری ہوتا ہے)۔‘‘ ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وہ لباس جس کی موجودگی میں جماع کیا گیا ہو،وہ ناپاک نہیں ہوتا،بلکہ پاک ہی رہتا ہے،ہاں اگر اسے کچھ لگ جائے تو اسے اس جگہ سے دھو لیا جائے۔ [1] فقہ السنۃ (1/ 124) المنتقیٰ مع النیل (1/ 2/ 119) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (542) [2] بحوالہ جات بالا،صحیح البخاري مع الفتح (1/ 465) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (352) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (283) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (540) صحیح ابن حبان،رقم الحدیث (237)