کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 174
نماز کے لیے ضروری لباس پانی،غسل،طہارت و وضو،تیمم اور اقامتِ نمازِ پنج گانہ کی تفصیلات ذکر کرنے کے بعد مسائلِ نماز کا آغاز،نماز کی اہمیت و فضیلت کے بیان سے کیا گیا تھا،جس کے ضمن ہی میں ترکِ نماز اور عدمِ پابندیِ نماز پر وعید اور پھر تارکِ نماز کا حکم بھی قدرے تفصیل سے آگیا ہے۔ نماز ادا کرنے کے طریقے اور احکامِ ادا سے پہلے اب آئیے! نماز کے لیے ضروری لباس کے بارے میں اسلامی احکام و مسائل تلاش کریں،کیونکہ جس طرح بدن کی طہارت و پاکیزگی واجب بلکہ بعض کے نزدیک قبولیتِ نماز کی شرط ہے،اسی طرح لباس کا بھی پاک ہونا اگر شرط نہیں تو کم از کم واجب ضرور ہے۔[1] نماز کے لیے طہارتِ لباس: لباس کی طہارت و نظافت کی طرف تو خود اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب کریم قرآنِ مجید میں بطورِ خاص توجہ دلائی ہے،چنانچہ سورۃ المدثر کے آغاز میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰٓاََیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ﴾ [المدثر:1 تا 4] ’’اے کپڑا اوڑھنے والے! اٹھیے اور(لوگوں کو عذابِ الٰہی سے)ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھیے۔‘‘ مفسّرین لکھتے ہیں کہ یہاں کپڑوں کی طہارت سے مراد حسی و اخلاقی یا ظاہری و باطنی ہر طرح کی طہارت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ(اﷲ کی بڑائی بیان کرنے اور)نماز پڑھنے کے لیے کپڑوں کا پاک صاف ہونا بھی ضروری ہے۔[2] [1] نیل الأوطار (1/ 2/ 121) الروضۃ الندیۃ (1/ 80) [2] أشرف الحواشي مولانا محمد عبدہ (ص: 687) نیز دیکھیں: تفسیر ابن کثیر (4/ 440-441-دار المعرفۃ بیروت)