کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 173
نماز باجماعت کے لیے کھڑے کب ہوں؟ اقامت کے وقت مقتدیوں کے کھڑے ہونے کے بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کے وقت کھڑے ہونے کی روایت ہے،حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ مؤذن کے ’’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘‘ کہتے ہی کھڑے ہونے کے قائل تھے،امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ’’حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘‘ کے الفاظ پر اور امام مالک رحمہ اللہ لوگوں کی طاقت پر چھوڑتے ہیں کہ جو جب اُٹھ سکے اُٹھ جائے،کیونکہ ان میں کوئی ضعیف ہوگا اور کوئی ثقیل اور کھڑے ہونے کا وقت بھی مقرر نہیں ہے۔ حنابلہ ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کے وقت اور شافعیہ اقامت ختم ہونے پر کھڑے ہونے کے قائل ہیں۔[1] امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہی اقرب الی السنہ معلوم ہوتا ہے۔ [1] فتح الباري (2/ 120) الفقہ علی المذاہب الأربعۃ (1/ 325)