کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 172
’’الأذکار‘‘(ص:37)میں،علامہ ابن علان نے ’’شرح الأذکار‘‘(علی ہامش:الکتاب،ص:39)میں،ابن قیم نے ’’الوابل الصیب‘‘(ص:118-أنصار السنۃ لاہور)میں،علامہ عجلونی نے ’’کشف الخفاء‘‘(بتحقیق القلاش:1/181)میں،امیر صنعانی نے ’’سبل السلام‘‘(1/127)میں،ابن قدامہ نے ’’المغني‘‘(1/427)میں امام شوکانی نے ’’نیل الأوطار‘‘(1/2/54)میں علامہ مبارکپوری نے ’’تحفۃ الاحوذي‘‘(1/617 مدنی)میں،علامہ عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی شارح نسائی نے ’’پیارے رسول کی پیاری دعائیں‘‘ مع نمازِ مسنون(ص:19-مکتبہ سلفیہ لاہور)میں،ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے ’’الفقہ الإسلامي و أدلتہ‘‘(1/552)میں اور سید سابق نے ’’فقہ السنۃ‘‘(1/116-دارالکتاب العربی)میں،’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کے جواب میں ’’أَقَامَھَا اللّٰہُ وَأَدَامَھَا‘‘ کہنے کو مستحب لکھا ہے۔حالانکہ سنن ابو داود و بیہقی والی حدیث کو کثیر محدّثین اور اہلِ علم نے ایک مجہول راوی(رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الشَّامِ)اور ایک مختلف فیہ راوی(شہر بن حَوشب)کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے اور ضعیف حدیث قابلِ حجت و عمل نہیں ہوتی،تو پھر اس استحباب کا کیا معنیٰ ہوا؟ اس روایت کو خود شارح ابی داود علامہ عظیم آبادی نے ’’عون المعبود‘‘(2/231)میں،امام شوکانی نے ’’نیل الأوطار‘‘(1/2/54)میں،علامہ مبارکپوری نے ’’تحفۃ الأحوذي‘‘(1/617)میں،علامہ احمد حسن محدّث دہلوی نے ’’تنقیح الرواۃ‘‘(1/119)میں،علامہ شقیری نے ’’السنن و المبتدعات‘‘(1/51)میں اور علامہ خضری نے ’’کتاب الدعاء‘‘(ص:78)میں ضعیف کہا ہے۔دَورِ حاضر کے عظیم علما میں سے محدث عصر علامہ البانی نے بھی ’’تحقیق المشکاۃ المصابیح‘‘(1/212)میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ شہر بن حوشب کی اگرچہ یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل نے توثیق کی ہے،مگر اکثر محدثین اور ماہرینِ جرح و تعدیل کا اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔[1] لہٰذا ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کے جواب میں ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کہنا ہی اولیٰ ہے اور((فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْأَمَامُ}کے عموم کا تقاضا بھی یہی ہے،کیونکہ یہاں حَیْعَلَتَیْن کے جواب میں ’’حَوْقَلَتَیْنِ‘‘ جیسی کوئی صریح و صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔ [1] السلسلۃ الصحیحۃ (1/ 200-2/ 101) الضعیفۃ (2/ 50) الإرواء (1/ 258) للألباني