کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 171
دوہری اقامت: امام ابو حنیفہ،ابن المبارک اور سفیان ثوری رحمہم اللہ دوہری اقامت کے قائل ہیں کہ جیسے اذان ہے،ویسے اقامت ہے اور اس کے کلمات میں ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کا دو مرتبہ اضافہ ہوگا۔[1] ان کا استدلال سنن ابو داود،ترمذی،نسائی و صحیح ابن حبان اور ابن خزیمہ میں حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث سے ہے،جس میں اذان و اقامت دونوں کے دوہری ہونے کا ذکر ہے۔سنن بیہقی،مصنف ابن ابی شیبہ اور طحاوی میں حضرت عبداﷲ بن زید بن عبد ربہ کی مروی حدیث کے الفاظ میں بھی دوہری اقامت کی دلیل موجود ہے اور اس کی سند کو ابن دقیق العید اور ابن حزم نے صحیح قرار دیا ہے۔[2] لہٰذا معلوم ہوا کہ دونوں طریقے ہی ثابت ہیں۔علامہ ابن عبدالبر رحمہم اللہ نے امام اسحاق،احمد،ابو داود اور محمد بن جریر رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ دونوں طریقوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی اجازت دیتے تھے۔[3] لیکن قول اول یعنی اکہری اقامت کی احادیث اَصح اور یہی اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین،علماے اُمت اور ائمۂ دین رحمہم اللہ کا اختیار ہے اور یہی اولیٰ اور عام مروج بھی ہے۔[4] اقامت کا جواب: جس طرح اذان کا جواب دیا جاتا ہے،اسی طرح ہی اقامت کے کلمات کا جواب دینا بھی مستحب ہے۔جس کی تفصیل اذان کے جواب والی ہی ہے کہ ہر کلمے کے جواب میں وہی کلمہ دہرا دے اور حَیْعَلَتَیْن اور ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کا جواب ابو داود اور بیہقی کی ایک حدیث میں ’’أَقَامَھَا اللّٰہُ وَأَدَامَھَا‘‘ مذکور ہے۔[5] کبار محدّثین و شارحینِ حدیث مثلاً امام نووی رحمہ اللہ نے ’’شرح مسلم‘‘(4/88)اور [1] الفقہ علی المذاہب الأربعۃ (1/ 322) [2] شرح السنۃ (2/ 256) و نیل الأوطار (1/ 2/ 42) [3] دیکھیں: شرح السنۃ وتحقیقہ (2/ 256) [4] نیل الأوطار (1/ 2/ 42) [5] سنن أبي داود مع العون (2/ 230 طبع بیروت) سنن البیھقي بحوالہ إرواء الغلیل (1/ 258)