کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 170
3۔ اکہری اقامت کی تیسری دلیل سنن ابو داود و نسائی،مسند احمد و شافعی،صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ،مستدرک حاکم اور سنن دارقطنی میں مذکور ہے،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،جس میں وہ فرماتے ہیں: {کَانَ الْأَذَانُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ وَالْإِقَامَۃُ مَرَّۃً مَرَّۃً غَیْرَ أَنَّہُ یَقُوْلُ:قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ،قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ}[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے جاتے تھے،سوائے ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کے(یہ دو مرتبہ ہی کہے جاتے تھے)۔‘‘ صحاح و سنن میں مذکور انھی صحیح احادیث کے پیشِ نظر امام شافعی،امام احمد اور جمہور علما رحمہم اللہ اکہری اقامت کے حق میں تھے اور بقول امام خطابی و بغوی رحمہ اللہ جمہور علماے حرمین شریفین،علماے حجاز و شام و یمن و مصر و مراکش اور تمام بلادِ اسلامیہ کے علما کا یہی مسلک ہے۔امام ابن سید الناس کے بقول: ’’حضرت عمرِ فاروق،ان کے صاحبزادے عبداﷲ اور حضرت انس رضی اللہ عنہم،حضرت حسن بصری،زہری،اوزاعی،احمد،اسحاق،ابو ثور،یحییٰ بن معین اور ابن المنذر رحمہم اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔‘‘ امام بیہقی کہتے ہیں: ’’سعید بن مسیب،عروہ بن زبیر،ابن سیرین اور عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک تھا۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اکہری اقامت کے قائل تھے۔انھوں نے اس کا باقاعدہ باب باندھا ہے۔[2] امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماے اُمت کا یہی قول(اکہری اقامت)ہے۔‘‘[3] امام مالک رحمہ اللہ بھی اکہری اقامت کے قائل تھے۔مگر وہ(اہلِ مدینہ کے عمل کی وجہ سے)’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ کو بھی صرف ایک ہی مرتبہ کہتے تھے۔ [1] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (483) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (610) [2] صحیح البخاري مع الفتح (2/ 83) [3] نیل الأوطار (1/ 2/ 41) شرح السنۃ للبغوي (2/ 255 طبع المکتب الإسلامي)