کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 167
{فَأَذَّنَ،ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَۃً،ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَھَا إِلَّا أَنْ یَّقُوْلَ:قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ}[1] ’’ایک آدمی نے اذان کہی،پھر بیٹھ گیا پھر اُٹھا اور اذان جیسے کلمات ہی کہے،البتہ اس میں((قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ}بھی کہا۔یعنی اقامت کہی۔‘‘ اس حدیث میں بیٹھ گیا اور پھر اقامت کہی کے کلمات سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اذان و اقامت میں کچھ وقفہ ہونا چاہیے اور یہ وقفہ مستحب ہے۔اس وقفے کی مقدار کتنی ہو؟ اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب مقرر کیا ہے: ’’کَمْ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِ‘‘ لیکن وہاں بھی کوئی خاص حد مقرر نہیں کی،بلکہ دو رکعتوں کے برابر وقت والی احادیث ذکر کی ہیں۔[2] امام ابن بطال کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں،سوائے اس کے کہ جب نمازی اکٹھے ہوجائیں تو جماعت کھڑی ہو یا اقامت کہی جائے اور اذان سے لے کر جماعت کے لیے ایک آدمی استنجا اور وضو وغیرہ کر کے تیار ہوسکے۔[3] صحیح مسلم،سنن ابو داود،ترمذی اور مسند احمد میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اذان کہتا: {ثُمَّ یُمْھِلُ فَلَا یُقِیْمُ حَتّٰی إِذَا رَأَی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَدْ خَرَجَ،أَقَامَ الصَّلَاۃَ حِیْنَ یَرَاہُ}[4] ’’پھر وہ انتظار کرتا یا دیر کرتا اور اقامت نہ کہتا،یہاں تک کہ جب وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے نکلتے دیکھ لیتا تو پھر اقامت کہتا۔‘‘ اس سے بھی معلوم ہوا کہ کچھ عرصہ بعد ہی اقامت ہونی چاہیے۔یہ تو عام نمازوں کی نسبت ہے۔جبکہ خاص نمازِ مغرب کی اذان اور اس کی اقامت میں بھی کچھ وقفہ ہونا چاہیے،جیسا کہ ان عرب [1] المنتقیٰ مع النیل (1/ 2/ 58) [2] صحیح البخاری مع الفتح (2/ 106) [3] فقہ السنۃ (1/ 118) [4] مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (265) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (503) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (166)