کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 164
ہے۔اذان کے ساتھ اول درود شریف کو لازم قرار دینا اور اہلِ سنت کا شعار بنانا بھی بدعت اور عبادت معہودہ میں تحریف کرنے کی کوشش ہے۔بہتر یہ ہے کہ درود شریف پڑھنے کی سعادت اگر حاصل کرنے کی کوشش ہے،تو اذان علاحدہ پڑھی جائے،کم از کم پانچ منٹ پہلے پڑھ لی جائے۔درمیان میں وقفہ دے کر اذان کہیں یا اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اذان کے بعد دعا پڑھ کر درود شریف پڑھیں۔جب لوگ سوئے ہوئے ہوں یا کسی کام میں مشغول ہوں،نماز باجماعت سے پہلے قرآنِ کریم یا درود شریف یا کوئی وظیفہ یا صوفیاے کرام کا کلام بلند آواز سے پڑھنا سنت کے خلاف اور اہلِ اسلام کو پریشان کرنے،ان کو بلا وجہ تنگ کرنے کے گناہ کا ارتکاب ہے۔بالخصوص فجر سے پہلے لاؤڈ سپیکر پر صوفیاے کرام کا کلام پڑھنا غیر مستحسن اور دوسروں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔فجر کے وقت سوائے دو سنت کے نوافل پڑھنے کا حکم بھی نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نمازیوں کی دشواری کے پیشِ نظر بعض اوقات نماز اور قراء ت میں تخفیف کر دیا کرتے تھے۔امام و خطیب کو ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے،جس سے اہلِ محلہ تنگ ہوں،جبکہ اس کا عمل سنت بھی نہ ہو،مستحب بھی نہ ہو۔واﷲ اعلم بالصواب (مفتی محمد حسین نعیمی،جامعہ نعیمیہ لاہور) از دار العلوم حزب الاحناف: ’’فجر ہونے سے پہلے لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز سے درود شریف پڑھنا جائز نہیں،کیونکہ کاروباری آدمی سوئے ہوئے ہوتے ہیں،ان کے آرام میں خلل واقع ہوتا ہے۔دُرِ مختار میں ہے:’’في حاشیۃ الحموي عن الإمام الشعراني‘‘ الخ حموی میں ہے۔امام شعرانی نے فرمایا:مسجدوں میں یا مسجدوں کے علاوہ جماعت کا ذکر کرنا مستحب ہے،اس میں سلف و خلف کا اجماع ہے اور اگر ان کا ذکرِ جہر سونے والے پر اور نماز پڑھنے والے پر یا قرآن پڑھنے والے پر شورش ہو تو جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت نے فتویٰ رضویہ جلد سوم میں بھی قریب قریب ایسا ہی فرمایا ہے،لیکن انھوں نے مریض کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنے میں اگر مریض کے آرام میں خلل آتا ہے تو ذکرِ جہر ممنوع ہے،لہٰذا جب فجر طلوع ہوجائے،تب لاؤڈ سپیکر پر درود شریف