کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 163
سے اس کو جائز ثابت کر بھی دیں تو صرف جائز ہی ہوگا،مستحب یا مندوب یا افضل نہیں ہوگا۔باقی رہ گئی یہ بات کہ اس پر ثواب بھی ہوگا،یہ بات تب ہو کہ جب وہ مستحب ہو۔ ’’اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی سے اس کی بابت پوچھا گیا تو انھوں نے لکھا کہ اذان کے بعد جب جماعت کا وقت قریب ہو،کسی شخص یا موذن کا بطورِ تثویب کے سلام و صلوۃ پڑھنا بہتر ہے،یعنی اذان کے بعد صلوۃ و سلام پڑھنے کی وجہ تو ہو سکتی ہے پہلے نہیں اور اس رسم کو جو اسلام میں معہود نہیں،جہلا بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور علما خاموش ہیں،پتا نہیں کیوں؟ یہ عظیم المیہ ہے۔‘‘[1] سوال: ’’حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب السلام علیکم! گزارش ہے قرآن و سنت کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ پنج وقت نماز کے لیے جو اذانیں دی جاتی ہیں،ان سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و صلوۃ بآواز بلند بھیجنا مسنون و مشروع ہے؟ جیسا کہ ہمارے ہاں معمول بنتا جا رہا ہے۔نمازِ فجر سے پہلے ہمارے محلّے کی مسجد میں سے تین یا ساڑھے تین بجے ہی لاؤڈ سپیکر پر صوفیا کا کلام یا کوئی اور کلام سنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔کبھی کبھی درود و سلام کو بھی سنایا جاتا ہے۔کیا محلّے والوں کو تین یا ساڑھے تین بجے ہی جگا دینا اِسلامی طریقہ ہے؟ صحیح فتویٰ دے کر عنداﷲ ماجور ہوں۔(السائل محمد حنفی باغبان پورہ جی ٹی نمبر 245-لاہور) الجواب ھو الموافق للصواب: درود شریف پڑھنا مسلمان کے لیے ذریعہ نجات اور وسیلہ شفاعت ہے۔قرآنِ کریم میں واضح طور پر ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ محبت اور عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے درود شریف پڑھا کریں۔نماز کے اندر بھی درود شریف پڑھنے کا حکم ہے۔اس لیے کوئی صحیح العقیدہ مسلمان درود شریف سے گریز نہیں کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو یہ اس کی بد نصیبی ہوگی۔اذان کے کلمات مقرر ہیں،اس میں کمی بیشی کرنا یا ان کے آگے پیچھے درود شریف یا قرآنِ کریم کی آیات بلا فصل ملانا بدعت اور عبادتِ الٰہی میں خلل ڈالنے کے مترادف [1] دیکھیں: انوار الصوفیہ،علامہ غلام رسول گوہر ایڈیٹر۔ماہِ جنوی 1978ء شمارہ نمبر 4)