کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 160
تیسری دلیل: صحیح بخاری و مسلم ہی کی حدیث ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے کا حکم فرمایا اور حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ چوتھی دلیل: سنن ابو داود،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی اور مسندِ احمد میں حضرت عبداﷲ بن زید سے مروی حدیث ہے: {ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْذِیْنِ}’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہنے کا حکم فرمایا۔‘‘ پانچویں دلیل: پانچویں دلیل نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تادمِ واپسیں اذان پر دوام اختیار فرمانا بھی ہے۔[1] امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اسے سنت قرار دیتے ہیں اور ان کا استدلال اس حدیث سے ہے،جس میں مذکور ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا اذان صرف اقامت سے نمازِ مغرب و عشا ادا فرمائیں۔جبکہ صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں بھی دو اذانوں اور دو اقامتوں سے نماز ادا فرمائی۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک اذان سنتِ مؤکدہ اور واجب علی الکفایہ ہے اور بعض نے فرضِ کفایہ کہا ہے۔امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرح اذان سنت ہے،جبکہ اصحابِ شافعی میں سے بعض نے اسے سنت،بعض نے فرض کفایہ اور بعض نے جمعہ کے لیے فرضِ کفایہ اور باقی نمازوں کے لیے اسے سنت قرار دیا ہے۔[2] بہر حال اذان ایک اہم ذکر اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔کوئی شخص چاہے اکیلا ہی کیوں نہ ہو،احادیث میں اس کے اذان کہہ کر نماز پڑھنے اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی تحسین کرنے کا پتا چلتا ہے۔اگر صرف دو ہوں تب بھی ایک اذان کہے اور بڑا امامت کرائے۔اگر تین ہوں اور اذان و اقامت اور جماعت کا اہتمام نہ کریں تو ان پر شیطان کے غالب آجانے کی نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔ان سب امور سے اذان کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے،بلکہ وجوب کے قول کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے۔ [1] نیل الأوطار (1/ 2/ 33-36) و فتح الباري (2/ 79) [2] نیل الأوطار (1/ 2/ 32)