کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 159
اذان کا شرعی حکم: اب رہا معاملہ اذان کے شرعی حکم کا تو امام عطا،احمد بن حنبل،مالک،مجاہد،اوزاعی اور داود رحمہم اللہ اذان کو واجب قرار دیتے ہیں اور ان کا استدلال متعدد احادیث سے ہے: پہلی دلیل: سنن ابو داود و نسائی،صحیح ابن حبان،مسندِ احمد اور مستدرکِ حاکم میں مروی ہے: {مَا مِنْ ثَلَاثَۃٍ فِيْ قَرْیَۃٍ وَلَا بَدْوٍ،وَلَا تُقَامُ فِیْھِمُ الصَّلَاۃُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَیْھُمُ الشَّیْطَانُ،فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ،فَإِنَّمَا یَأْکُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ}[1] ’’اگر کسی گاؤں یا صحرا میں تین آدمی ہوں اور وہ اذان و اقامت کہہ کر جماعت سے نماز ادا نہ کریں تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے،پس تم پر جماعت لازم ہے اور تنہا بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔‘‘ مسند احمد کے الفاظ ہیں: {مَا مِنْ ثَلَاثَۃٍ لَا یُؤَذِّنُوْنَ،وَلَا تُقَامُ فِیْھِمُ الصَّلَاۃُ}[2] دوسری دلیل: صحیحین میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ}[3] ’’جب نماز کا وقت ہوجائے تو ایک شخص اذان کہے اور تم میں سے بڑا تمھیں جماعت کرائے۔‘‘ [1] مسند أحمد (5/ 196) صحیح ابن خزیمۃ،رقم الحدیث (1486) المستدرک للحاکم (1/ 246) بحوالہ تحقیق مصابیح السنۃ (1/ 394) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (511) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (817) صحیح الجامع،رقم الحدیث (5701) [2] المنتقیٰ مع النیل (1/ 2/ 31) [3] المنتقیٰ (1/ 2/ 32) صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (628) صحیح مسلم مع شرح النووي (3/ 5/ 174)