کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 157
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ عورتوں پر بھی اذان ہے؟ تو وہ غضب ناک ہوئے اور فرمایا: {أَنَا أَنْھٰی عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ}’’میں ذکرِ الٰہی سے روکوں؟‘‘ یعنی میں اذان کہنے سے انھیں کیوں روکوں۔امام احمد رحمہ اللہ نے اسی اثر سے احتجاج کیا ہے۔[1] اس معاملے میں امام شافعی اور اسحاق رحمہ اللہ بھی امام احمد رحمہ اللہ کے ہمنوا ہیں کہ عورت کے اذان کہہ لینے میں کوئی حرج نہیں،جیسا کہ شروع میں ذکر ہوا ہے اور اس کی ایک دلیل ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فعل سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ مستدرک حاکم اور انھی کے طریق سے سنن کبریٰ بیہقی،مصنف عبدالرزاق و ابن ابی شیبہ میں مروی ہے: ’’إِنَّھَا کَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِیْمُ وَتُؤَمُّ النِّسَائَ وَتَقِفُ وَسْطَھُنَّ‘‘[2] ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اذان کہا کرتی تھیں اور اقامت کہتیں اور عورتوں کو جماعت کراتی تھیں اور ان کے وسط میں(صف کے اندر)کھڑے ہوتی تھیں۔‘‘ عورتوں کی امامت کرانے کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ(2/89)میں ابن ابی لیلیٰ کے طریق سے مروی اثر میں بھی موجود ہیں۔لہٰذا اس اضافے کی متابعت ہوگئی اور یہ دونوں اثر ایک دوسرے کے لیے باعثِ تقویت ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس اثر کے کئی دیگر طُرق بھی ہیں۔مثلاً ایک طریق رائطہ حنفیہ سے سنن بیہقی،دارقطنی اور مصنف عبدالرزاق میں مروی ہے۔جس میں وہ بیان کرتی ہیں: ’’إِنَّ عَائِشَۃَ أَمَّتْ نِسْوَۃً فِيْ الْمَکْتُوْبَۃِ فَأَمَّتْھُنَّ بَیْنَھُنَّ وَسَطًا‘‘[3] ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کی فرض نماز میں امامت کرائی اور ان کے وسط میں(صف کے اندر)کھڑی ہوئیں۔‘‘ اس کی سند کو امام نووی رحمہ اللہ نے ’’المجموع‘‘(4/199)میں صحیح کہا ہے اور ’’نصب الرایۃ‘‘(2/31)میں علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے ان کی تصحیح کو برقرار رکھا ہے۔البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’التلخیص الحبیر‘‘(2/42)سکوت اختیار فرمایا ہے۔علامہ البانی نے ان کے سکوت ہی کو اقرب قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ مجھے اس رائطہ کے حالات نہیں ملے۔[4] [1] تمام المنۃ (ص: 153) [2] تمام المنۃ (153) [3] تمام المنۃ (153) [4] تمام المنۃ (ص: 154)