کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 155
گھوم جانے کی کیفیت کے بارے میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘(1/2/47)میں بڑی تفصیل ذکر کی ہے۔ 6۔ اذان کے وقت اپنے دونوں کانوں میں انگلیوں کے پورے ڈالے رکھے،جیسا کہ اسی مذکورہ حدیث میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا طریقہ ذکر ہوا ہے اور دونوں میں کون سی انگلیاں ڈالے؟ اس کی صراحت تو نہیں ملتی،البتہ معروف یہی ہے اور فقہا و ائمہ اور خصوصاً امام نووی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ انگشتِ شہادت یعنی دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلیاں ہوں۔[1] سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح موذن زیادہ بلند آواز نکال سکتا ہے،مگر وہ روایت ضعیف ہے۔لیکن مذکورہ وجہ بلاشبہہ معقول ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہلِ علم نے اس چیز کو پسند کیا ہے۔[2] 7۔ موذن ایسا شخص ہو جو اجرت نہ لے،بلکہ لوجہ اﷲ یہ فریضہ سر انجام دے۔کیوں کہ سنن ابو داود،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ان کے امام ہو اور(نماز کے دوران میں)کمزور نمازیوں کا خیال رکھو۔‘‘ {وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہٖ أَجْراً}[3] ’’تم کسی ایسے شخص کو موذن مقرر کرو،جو اذان کہنے پر اجرت نہ لے۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اکثر اہلِ علم نے اذان پر اُجرت لینے کو ناپسند کیا ہے۔[4] ’’نیل الأوطار‘‘ میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک [1] سنن الترمذي مع تحفۃ (1/ 189،190 ) وصححہ الألباني في تعلیقہ علی مشکاۃ المصابیح (1/ 206) [2] فتح الباري (2/ 116) [3] سنن الترمذي مع التحفۃ (1/ 591) [4] مشکاۃ المصابیح و تحقیقہ (1/ 211) سنن الترمذي مع التحفۃ (1/ 618) المنتقیٰ مع النیل (1/ 2/ 58) مسند أحمد (4/ 217) مستدرک الحاکم (1/ 199) بحوالہ تحقیق المصابیح (1/ 275) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (497) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (172) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (648) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (714)