کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 154
آگے اس کا ثواب بھی بتایا کہ جن و انس میں سے جو بھی تمھاری آواز سنے گا،قیامت کے دن تمھارے حق میں شہادت دے گا۔ اگر کبھی کسی کی متعدد یا ایک نماز قضا ہوجائے یا جمع بین الصلاتین کا ارادہ ہو تو جب نماز پڑھنا ہو،پہلے اذان کہے اور پھر اقامت کے ساتھ نماز ادا کرے۔اگر دو یا زیادہ نمازیں ہوں تو صرف ایک ہی اذان کہے،لیکن ہر نماز کے لیے اقامت کہتا جائے،جیسا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار نمازیں ادا فرمائیں۔یہ حدیث سنن ترمذی،نسائی،مسندِ احمد،سنن بیہقی،صحیح ابن حبان،ابن خزیمہ اور مسند طیالسی میں مذکور ہے۔ 4۔ موذن قبلہ رو کھڑا ہو کر اذان کہے،کیونکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں موذن قبلہ رو کھڑے ہو کر اذان کہا کرتے تھے اور یہی طریقہ بالاتفاق مسنون و مندوب ہے۔البتہ فقہاے مذاہب اربعہ نے لوگوں کو آواز سنانے کی خاطر گھوم جانے کی بھی اجازت دی ہے۔بشرطیکہ وہ اذان کا آغاز قبلہ رُو ہو کر کر ے۔[1] کھڑے ہو کر اذان کہی جائے یہی مسنون ہے۔امام ابن المنذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور اگر عذر ہو تو بیٹھ کر بھی اذان کہی جا سکتی ہے،جیسا کہ سنن بیہقی میں ایک صحابی ابو زید رضی اللہ عنہ کا عمل نقل ہوا ہے۔[2] 5۔ دورانِ اذان جب ’’حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ‘‘ کہے تو سر،گردن اور سینے کو دائیں جانب اور جب ’’حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘‘ کہے تو بائیں جانب گھمائے،جیسا کہ سنن ترمذی اور مسند احمد میں حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {رَأَیْتُ بِلَالاً،یُؤَذِّنُ وَیَدُوْرُ،وَیُتْبِعُ فَاہُ ھَاھُنَا،وَاصْبَعَاہُ فِيْ أُذُنَیْہِ،وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِيْ قُبَّۃٍ لَہٗ حَمْرَائَ}[3] ’’میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اذان کہتے ہوئے اپنے منہ کو اِدھر اُدھر پھیر رہے تھے اور ان کی دونوں انگلیاں کانوں میں تھیں،جب کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ قبے میں تھے۔‘‘ [1] صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (609) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (625) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (723) [2] الفقہ علی المذاھب الأربعۃ (1/ 317) [3] إرواء الغلیل (1/ 241)