کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 153
موجود ہیں۔امام شافعی،امام اسحاق بن راہویہ،امام عطا اور بعض دیگر اہلِ علم کے نزدیک بلاوضو اذان دینا مکروہ ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے امام عطاء رحمہ اللہ کے قول ’’اَلْوُضُوْئُ حَقٌّ وَسُنَّۃٌ‘‘ کو تعلیقاً ذکر کیا ہے،جب کہ سفیان ثوری،ابن المبارک،احمد بن حنبل،مالک،ابراہیم نخعی رحمہم اللہ اور احناف کے نزدیک بلاوضو اذان کہنے کی اجازت ہے۔امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول بھی امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقاً ذکر کیا ہے۔[1] مذکورہ حدیث کے بعض شواہد بھی ہیں،ایک تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تلخیص میں،سنن بیہقی و الافراد اور دارقطنی کے حوالے سے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے۔دوسرا شاہد امام زیلعی رحمہ اللہ نے ’’نصب الرایۃ‘‘ میں ابو الشیخ کے حوالے سے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ان شواہد کے پیش نظر علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ موذن کا باوضو ہونا ہی زیادہ اولیٰ ہے۔[2] 2۔ مؤذن کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر اذان دے،تاکہ آواز دور تک جائے۔کیوںکہ سنن ابو داود میں ایک روایت ہے،حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بنی نجار کی ایک عورت سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتی ہے: ’’میرا گھر مسجد کے ارد گرد والے تمام گھروں سے اونچا تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس پر کھڑے ہو کر اذان دیا کرتے تھے۔‘‘ مگر آج جہاں جہاں لاؤڈ سپیکر موجود ہیں،وہاں اونچی جگہ پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ 3۔ آدمی چاہے تنہا ہی کیوں نہ ہو،بلند آواز سے اذان کہے،کیونکہ صحیح بخاری،سنن نسائی،ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں حدیث ہے،جسے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے عبداﷲ بن عبدالرحمن بن ابو صعصعہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں،جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: {فَإِذَا کُنْتَ فِيْ غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ}[3] ’’جب تم اپنی بکریوں کے ساتھ جنگل میں ہو تو بلند آواز سے اذان کہو۔‘‘ [1] الإرواء (1/ 240) تحفۃ الأحوذي (1/ 599) [2] صحیح البخاری مع الفتح (2/ 114) سنن الترمذي مع التحفۃ (1/ 589۔601) [3] تحفۃ الأحوذي (1/ 601)