کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 148
اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اذان کے کلمات یہی ہیں۔ان کے آگے پیچھے یا درمیان میں دوسرے کوئی کلمات کسی صحیح حدیث سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں۔اگر ’’حَيَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ‘‘ یا دوسرے کوئی کلمات کبھی تھے بھی تو وہ منسوخ ہوچکے،کیونکہ صحیحین اور دیگر دواوینِ حدیث میں مذکورہ کلمات کے علاوہ دوسرے کسی قسم کے الفاظ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔[1] شیعہ حضرات یہ کلمات ’’حَيَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ‘‘ بڑے التزام سے کہتے ہیں۔حالانکہ اول تو یہ کلمات کبھی اذان کا حصہ نہیں رہے اور اگر کبھی رہے بھی تو امام شوکانی کی تحقیق کے مطابق منسوخ ہوچکے ہیں۔اس کی تفصیل ’’نیل الأوطار‘‘ کے مذکورہ مقام پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ اذان میں ’’أَشْھَدُ أَنَّ عَلِیًّا وَلِيُّ اللّٰہِ‘‘ اور ’’وَصِيُّ اللّٰہِ‘‘ کے کلمات کا اضافہ بھی کرتے ہیں،یہ بھی ان کی اپنی ایجاد ہے۔اور تو اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ ثابت نہیں کہ اپنے عہدِ خلافت ہی میں انھوں نے کبھی یہ کلمات کہلوائے ہوں اور کتبِ شیعہ بھی ان کے غیر صحیح ہونے پر شاہد ہیں،مشہور شیعہ کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’یہ کلمات اذان کا حصہ نہیں ہیں اور جو شخص ان کلمات کو جزوِ اذان سمجھ کر اذان میں کہے اس پر اﷲ کی لعنت ہو۔‘‘[2] فجر کی دو اذانیں اور پہلی میں تثویب: اذان بڑے بڑے شعائرِ اسلامیہ میں سے ایک اہم شعار ہے۔جسے امام شوکانی جیسے بعض اہلِ علم نے واجب،بعض نے سنتِ مؤکدہ اور بعض نے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے دوسری رائے ہی کو صحیح تر قرار دیا ہے۔[3] صبح کے وقت دو اذانیں ہیں،جن میں سے ایک تو نمازِ فجر کا وقت ہوجانے اور لوگوں کو نماز کے لیے بلانے والی ہے اور دوسری اس سے کچھ پہلے ہوتی ہے۔ان دونوں اذانوں میں سے دوسری تو [1] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: نیل الأوطار (1/ 2/ 39) [2] دیکھیں: ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور (ص: 64-جلد: 19،شمارہ: 7 باب رجب 1409ھـ بمطابق 1989ء) تبصرہ برکتاب مقامِ صحابہ (شیعہ مذہب کی روشنی میں) از مولانا فیض عالم صدیقی رحمہ اللہ۔ [3] مجموع الفتاویٰ (1/ 67،68،4/ 20) تمام المنۃ (ص: 144) تفصیل کے لیے دیکھیں: السیل الجرار للشوکاني (1/ 196،197) الأوسط (3/ 24)