کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 144
دعا یہ ہے: {اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِ الَّذِيْ وَعَدْتَّہٗ}[1] دعاے اذان کا صحیح ترین صیغہ اور الفاظ صرف یہی ہیں اور اس پر جو اضافے کیے گئے ہیں،وہ شاذ اور مدرج ہیں،لہٰذا صرف انھیں الفاظ پر اکتفا کرنا ہی اولیٰ ہے اور وہ اضافے یہ ہیں: ’’پہلا یہ کہ ’’شرح معاني الآثار‘‘ کی روایت میں ’’آتِ مُحَمَّدًا‘‘ کے بجائے ’’آتِ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا‘‘ کے الفاظ ہیں،یہاں ’’سَیِّدَنَا‘‘ ثابت نہیں ہے،بلکہ مدرج ہے۔’’عمل الیوم واللیلۃ لابن السني‘‘ میں ’’اَلْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ‘‘ کے بعد ’’وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ۔۔۔‘‘ کے الفاظ بھی ہیں۔یہ بھی مدرج ہیں اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں،جیسا کہ ’’التلخیص‘‘ میں حافظ ابن حجر نے اور ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ میں امام سخاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے۔[2] ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے ان الفاظ کا اضافہ کسی روایت میں نہیں دیکھا۔[3] ’’المحرر‘‘ میں رافعی نے اس دعا کے آخر میں ’’یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘ کے الفاظ بھی ذکر کیے ہیں،مگر یہ بھی طُرقِ حدیث میں مذکور نہیں ہیں۔سنن بیہقی میں اس دعا کے آخر میں((اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ}کے الفاظ بھی ہیں،جب کہ تمام کتبِ حدیث اور صحیح بخاری کے صحیح و متداول نسنح میں ان کا ذکربھی نہیں،صرف تور بشتی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ان کلمات کے شاید شاذ ہونے کی وجہ سے شارح بخاری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انھیں ذکر ہی نہیں کیا،لہٰذا محدّثین نے اس اضافے کو بھی شاذ قرار دیا ہے۔[4] [1] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (614) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (496) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (174) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (656) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (722) [2] الإرواء (1/ 621) تحقیق مصابیح السنۃ (1/ 272) [3] دیکھیں: تحفۃ الأحوذي (1/ 623) [4] الإرواء (1/ 260-261)