کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 142
’’جب تم موذن کی آواز سنو تو تم بھی اسی طرح کہتے جاؤ،جو وہ کہتا ہے پھر مجھ پر دورد بھیجو،جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا،اﷲ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔‘‘ پھر آگے ارشاد فرمایا: ’’پھر میرے لیے وسیلے کی دعا کرو(وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے،جو اﷲ کے صرف ایک ہی بندے کو ملے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوجاؤں)پس جس نے میرے لیے وسیلے کی دعا مانگی،اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔‘‘[1] اذان کا جواب: صحیح مسلم،سنن ابو داود اور بیہقی میں اذان کا جواب دینے کی فضیلت کے علاوہ یہ بھی مذکور ہے کہ اذان کا جواب کیسے دیا جائے،چنانچہ امیر المومنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب موذن((اَللّٰہُ أَکْبَرُ}کہے،تو تم میں سے بھی کوئی((اَللّٰہُ أَکْبَرُ}کہے،جب وہ((أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ}کہے،تو وہ بھی((أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ}کہے،پھر جب وہ((أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ}کہے،تو وہ بھی((أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ}کہے،پھر وہ جب((حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ}کہے،تو وہ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ}کہے،پھر وہ جب((حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ}کہے تو وہ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ}کہے،پھر جب وہ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ}کہے،تو وہ بھی((اَللّٰہُ أَکْبَرُ}کہے،پھر جب وہ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ}کہے تو وہ بھی{لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ}کہے: {دَخَلَ الْجَنَّۃَ}[2] ’’وہ جنت میں داخل ہو گیا۔‘‘ قابلِ توجہ بات صرف اتنی سی ہے کہ اذان کا جواب وہی کلمات دہرانا ہے،جو موذن کہتا ہے۔سوائے اس کے کہ جب وہ((حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ}اور((حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ}دو دو مرتبہ کہے تو جواب دینے والا اس کے بجائے دو دو مرتبہ ہی((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ}کہے گا۔اب رہا [1] مشکاۃ المصابیح (1/ 208) إرواء الغلیل (1/ 259) مخنتصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (198) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (391) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (6820) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (653) صحیح الجامع،رقم الحدیث (613) [2] مشکاۃ المصابیح (1/ 208) إرواء الغلیل (1/ 258) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (199) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (395)