کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 141
عَلَیْہِ لَاسْتَھَمُوْا}[1] ’’اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان کہنے اور صف اول میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی فضیلت و ثواب کیا ہے،تو قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہے اور وہ قرعہ اندازی کیا کریں۔‘‘ اذان کا جواب دینے کی فضیلت: اذان کا جواب دینے والے کو بھی بڑے اجر و ثواب کی بشارتیں دی گئی ہیں۔مثلاً سنن ابو داود اور صحیح ابن حبان میں مروی ہے کہ کسی شخص نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ موذنین تو ہم پر فضیلت لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَإِذَا انْتَھَیْتَ فَسَلْ تُعْطَہُ}[2] ’’تم بھی انہی کی طرح کہتے جاؤ اور جب تم اذان کے الفاظ مکمل کر لو تو اﷲ سے جو سوال کرو گے وہ تمھیں دیا جائے گا۔‘‘ نسائی شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اذن کہنا شروع کیا،جب وہ خاموش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {مَنْ قَالَ مِثْلَ ھٰذَا یَقِیْنًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ}[3] ’’جس نے قلبی یقین کے ساتھ اسی طرح کہا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔‘‘ صحیح بخاری ومسلم میں اذان کا جواب دینے اور بعد میں دعا کرنے کو بڑے اجر و ثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔مثلاً صحیح مسلم،سنن ابو داود،نسائی،ترمذی اور مسندِ احمد اور سنن بیہقی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ،ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّہٗ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِھَا عَشْراً} [1] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (615) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (628) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (562) صحیح الجامع،رقم الحدیث (5339) [2] مشکاۃ المصابیح (1/ 562) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (392) موارد الظمآن،رقم الحدیث (695) [3] مشکاۃ المصابیح (1/ 213) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (250)